صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب إدخال البعير فى المسجد للعلة:
باب: ضرورت سے مسجد میں اونٹ لے جانا۔
حدیث نمبر: 464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أَشْتَكِي، قَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِ وَالطُّورِ {1} وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ {2} سورة الطور آية 1-2".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے۔ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حجۃ الوداع میں) اپنی بیماری کا شکوہ کیا (میں نے کہا کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے پیچھے رہ اور سوار ہو کر طواف کر۔ پس میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کے قریب نماز میں آیت «والطور و کتاب مسطور» کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 464]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لوگوں کے پیچھے پیچھے سواری پر بیٹھ کر طواف کر لے۔“ چنانچہ میں نے اسی طرح طواف کیا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پہلو میں کھڑے نماز میں سورہ ﴿وَالطُّورِ﴾ [سورة الطور: 1] تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا" وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُلْ لَهَا إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ عَنْهَا، فَقَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي , فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ لَكَ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے کہ ابن عباس، مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہم سب کا سلام کہنا اور اس کے بعد عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا۔ انہیں یہ بھی بتا دینا کہ ہمیں خبر ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں۔ حالانکہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں سے منع کیا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان رکعتوں کے پڑھنے پر لوگوں کو مارا بھی تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغام پہنچایا۔ اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کر۔ چنانچہ میں ان حضرات کی خدمت میں واپس ہوا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو نقل کر دی، انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا انہیں پیغامات کے ساتھ جن کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھیجا تھا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے تھے لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دو رکعتیں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے۔ میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس لیے میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں ہو کر یہ پوچھے کہ ام سلمہ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ! آپ تو ان دو رکعتوں سے منع کیا کرتے تھے حالانکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود انہیں پڑھتے ہیں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ باندی نے پھر اسی طرح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو (آپ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا کہ اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا، بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے اور ان کے ساتھ بات کرنے میں میں ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا سو یہ وہی دو رکعت ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1233]
حضرت کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انہیں سلام کہنا اور ان سے نماز عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق دریافت کرنا، نیز ان سے عرض کرنا کہ ہماری اطلاع کے مطابق آپ عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں یہ خبر پہنچتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی کہا کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یہ دو رکعتیں پڑھنے والوں کو مارتا تھا۔ حضرت کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں وہ خبر پہنچا دی جس کے لیے انہوں نے مجھے بھیجا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کے پاس گیا اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات سے آگاہ کر دیا۔ پھر انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف وہی پیغام دے کر بھیجا جو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لے کر گیا تھا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ ان سے منع فرماتے تھے، پھر میں نے آپ کو عصر کے بعد یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی تھیں۔ میں نے ایک لڑکی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو کر عرض کرنا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا دریافت کرتی ہیں: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے جبکہ میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ خود آپ یہ دو رکعتیں پڑھ رہے ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دیں تو پیچھے ہٹ جانا، چنانچہ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے بعد فرمایا: ”ابو امیہ کی بیٹی! تو نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آ گئے تھے۔ انہوں نے ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے میں مجھے دیر کرادی، یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1619
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ {1} وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ {2} سورة الطور آية 1-2".
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم «والطور * وكتاب مسطور» قرآت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1619]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے رہ کر طواف کر لو۔“ چنانچہ میں نے لوگوں کے پیچھے رہ کر طواف مکمل کیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کی ایک جانب صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اور ﴿وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ﴾ [سورة الطور: 1-2] کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ بمكة وَأَرَادَ الْخُرُوجَ، وَلَمْ تَكُنْ أُمُّ سَلَمَةَ طَافَتْ بالبيت وَأَرَادَتِ الْخُرُوجَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمْ تُصَلِّ حَتَّى خَرَجَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب نے اور انہیں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے اور وہاں سے چلنے کا ارادہ ہوا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کعبہ کا طواف نہیں کیا اور وہ بھی روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائیں تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کر لینا۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1626]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کے متعلق شکایت کی۔ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بایں الفاظ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب آپ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے اور وہاں سے روانگی کا ارادہ فرمایا، (میں) ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی روانہ ہونا چاہتی تھی، لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب نماز فجر کھڑی ہو جائے تو تم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کر لو جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور حرم سے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ: بِ وَالطُّورِ {1} وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ {2} سورة الطور آية 1-2".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں (نماز کے اندر) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1633]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں بیمار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو کر لوگوں کی پچھلی جانب سے بیت اللہ کا طواف کر لو۔“ چنانچہ میں نے (اس طرح) اپنا طواف مکمل کیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحالت نماز ﴿سورة الطور﴾ کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4853
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"، فَطُفْتُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (حج کے موقع پر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4853]
سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں بیمار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔“ چنانچہ میں نے طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورہ ﴿وَالطُّورِ * وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ﴾ [سورة الطور: 1-2] کی تلاوت کر رہے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4853]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة