🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب قوله: {حتى إذا استيأس الرسل} :
باب: آیت کی تفسیر ”یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے کہ افسوس ہم لوگوں کی نگاہوں میں جھوٹے ہوئے“ آخر تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4695
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ سورة يوسف آية 110، قَالَ: قُلْتُ: أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كُذِّبُوا، قُلْتُ: فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ، فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ؟ قَالَتْ: أَجَلْ، لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، فَقُلْتُ لَهَا: وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، لَمْ تَكُنْ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا، قُلْتُ: فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ؟ قَالَتْ: هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ، جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا عروہ نے ان سے آیت «حتى إذا استيأس الرسل‏» کے متعلق پوچھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا تھا (آیت میں) «كذبوا» (تخفیف کے ساتھ) یا «كذبوا» (تشدیدکے ساتھ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ «كذبوا» (تشدید کے ساتھ) اس پر میں نے ان سے کہا کہ انبیاء تو یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر «ظنوا» سے کیا مراد ہے، انہوں نے کہا اپنی زندگی کی قسم بیشک پیغمبروں کو اس کا یقین تھا۔ میں نے کہا «كذبوا» تخفیف ذال کے ساتھ پڑھیں تو کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا معاذاللہ! کہیں پیغمبر اپنے پروردگار کی نسبت ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا ان کی تصدیق کی جب ان پر ایک مدت دراز تک آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر ان کے ایمان لانے سے ناامید ہو گئے جنہوں نے ان کو جھٹلایا تھا اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اب وہ بھی ہم کوجھوٹا سمجھنے لگیں گے، اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4695]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جبکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت ﴿حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ﴾ [سورة يوسف: 110] کے متعلق پوچھا: عروہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا تھا کہ آیت میں «كُذِّبُوا» (تشدید کے ساتھ) ہے یا «كُذِبُوا» (تخفیف کے ساتھ) ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «كُذِّبُوا» (تشدید کے ساتھ) ہے۔ اس پر میں نے کہا: انبیاء تو یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے، پھر «ظَنُّوا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میری زندگی کی قسم! بلاشبہ پیغمبروں کو اس امر کا یقین تھا۔ میں نے کہا: ﴿وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟﴾ [سورة يوسف: 110] میں اگر «كُذِبُوا» (تخفیف کے ساتھ) پڑھیں تو کیا قباحت ہے؟ انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ! پیغمبر اپنے رب کے متعلق ایسا گمان کیونکر کر سکتے ہیں؟ میں نے عرض کی: پھر اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی تصدیق کی اور اپنے رب پر ایمان لائے، جب ان پر مدت دراز تک آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں تاخیر ہوئی اور پیغمبر ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی اور وہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اب وہ بھی ہمیں جھوٹا خیال کرنے لگیں گے، اس وقت اللہ کی مدد آ پہنچی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4695]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا أَوْ كُذِبُوا، قَالَتْ: بَلْ كَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ، فَقَالَتْ: يَا عُرَيَّةُ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، قُلْتُ: فَلَعَلَّهَا أَوْ كُذِبُوا، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَتْ: هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ اسْتَيْأَسُوا سورة يوسف آية 80 افْتَعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ مِنْهُ سورة يوسف آية 80مِنْ يُوسُفَ وَلا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ سورة يوسف آية 87 مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھا «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا‏» (تشدید کے ساتھ «كُذِّبُوا») ہے یا «كُذِبُوا» (بغیر تشدید کے) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ (یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر قرآن میں لفظ «ظن‏.‏» گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چھوٹے سے عروہ! بیشک ان کو تو یقین تھا۔ میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے «كذبوا‏» ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک اللہ کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے (سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ «استيأسوا‏»، «افتعلوا» کے وزن پر ہے جو «يئست‏.‏ ‏منه‏» سے نکلا ہے۔ «اى من يوسف‏.‏» (سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی زلیخا یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئی۔) «لا تيأسوا من روح الله‏» » ‏‏‏‏ (سورۃ یوسف: 87) یعنی اللہ سے امید رکھو ناامید نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3389]
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت ﴿حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ﴾ [سورة يوسف: 110] کے متعلق سوال کیا کہ اس میں «كُذِّبُوا» تشدید کے ساتھ ہے یا بغیر تشدید کے؟ انہوں نے فرمایا: (تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! انہیں تو یقین تھا کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے، پھر لفظ «ظَنُّوا» کیوں استعمال ہوا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے چھوٹے سے عروہ! بلاشبہ ان کو تو اس کا یقین تھا۔ میں نے عرض کیا: شاید یہ لفظ تشدید کے بغیر «كُذِبُوا» ہو، یعنی پیغمبروں نے خیال کیا کہ ان کے ساتھ جو مدد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ صحیح نہیں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذ اللہ! انبیائے کرام اپنے رب کے متعلق ایسا گمان ہرگز نہیں کر سکتے، البتہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ رسولوں کے اتباع (پیروکار) جو ان پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے اپنے رسول کی تصدیق کی تھی، وہ جب عرصہ دراز تک آزمائش میں رہے اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور انبیائے کرام بھی اپنی قوم کے جھٹلانے والوں (کے ایمان لانے) سے ناامید ہو گئے، تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ انہیں ماننے والے ہیں اب وہ بھی انہیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی مدد آپہنچی۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: «اسْتَيْأَسُوا» «اسْتَفْعَلُوا» کے وزن پر ہے جو «يَئِسْتُ مِنْهُ» سے نکلا ہے۔ برادرانِ یوسف، حضرت یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئے تھے۔ ﴿وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ﴾ [سورة يوسف: 87] اللہ کی رحمت سے ناامید نہ رہو بلکہ امیدوار رہو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں