🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب كان جبريل يعرض القرآن على النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4998
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا، فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ".
ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4998]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ (حضرت جبریل علیہ السلام) ہر سال ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی، اس میں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ دور کیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی، اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4998]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ عَشْرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا".
ہم سے عبداللہ بن ابی شبیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین عثمان بن عاصم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2044]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے، مگر جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3624
فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: أَسَرَّ إِلَيَّ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ".
‏‏‏‏ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال قرآن مجید کا ایک دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اب میری موت قریب ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی تم ہو گی۔ میں (آپ کی اس خبر پر) رونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ جنت کی عورتوں کی سردار بنو گی یا (آپ نے فرمایا کہ) مومنہ عورتوں کی، تو اس پر میں ہنسی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3624]
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوشیدہ گفتگو یہ کی تھی: حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، البتہ اس سال دو مرتبہ دور کیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق میری موت قریب آچکی ہے۔ اور یقیناً تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات کرو گی۔ تو میں رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم جنت کی عورتوں یا اہل ایمان عورتوں کی سردار ہو؟ اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں