صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب تعليم الصبيان القرآن:
باب: بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا۔
حدیث نمبر: 5035
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ"، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ".
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ جن سورتوں کو تم مفصل کہتے ہو وہ سب محکم ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میری عمر دس سال کی تھی اور میں نے محکم سورتیں سب پڑھ لی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5035]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جن سورتوں کو تم مفصل کہتے ہو وہ سب محکم ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میری عمر دس سال تھی جبکہ میں اس وقت محکم سورتیں پڑھ چکا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ". حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، مِثْلَهُ. تَابَعَهُ بِشْرٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں (کہنا چاہیے) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5032]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے۔ تم قرآن پڑھتے رہا کرو کیونکہ قرآن انسانوں کے دلوں سے نکل جانے میں اونٹ کے بھاگ جانے سے بڑھ کر ہے۔“ عثمان نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے جریر نے منصور سے ذکر کردہ حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة