🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب الأنماط ونحوها للنساء:
باب: عورتوں کے لیے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھانا جائز ہے (یا باریک پردہ لٹکانا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5161
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (جب انہوں نے شادی کی) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5161]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نمدے بنا لیے ہیں؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے لیے نمدے کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: عنقریب تمہارے لیے نمدے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ؟، قُلْتُ: وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الْأَنْمَاطُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَنَا أَقُولُ لَهَا يَعْنِي امْرَأَتَهُ أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَدَعُهَا".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (ان کی شادی کے موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ (ہم غریب لوگ ہیں) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔ اب جب میں اس سے (اپنی بیوی سے) کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں (اور چپ ہو جاتا ہوں)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3631]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (شادی کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔ چنانچہ ایک وقت آیا کہ میں اپنی بیوی سے کہتا تھا کہ اپنے قالین ہمارے پاس سے ہٹا دے تو وہ کہتی ہیں: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا: عنقریب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ یہ سن کر میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں (اور خاموش ہو جاتا ہوں)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3631]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3661
حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ فَسَلَّمَ، وَقَالَ إِنِّي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ نَدِمْتُ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي فَأَبَى عَلَيَّ فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَ أَثَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالُوا: لَا فَأَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَنَا كُنْتُ أَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي مَرَّتَيْنِ فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا".
مجھ سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے زید بن واقد نے بیان کیا، ان سے بسر بن عبیداللہ نے، ان سے عائذ اللہ ابوادریس نے اور ان سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے، گھٹنا ظاہر کئے ہوئے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اور عمر بن خطاب کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں، میں نے جلدی میں ان کو سخت لفظ کہہ دیئے لیکن بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی تو میں نے ان سے معافی چاہی، اب وہ مجھے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر! تمہیں اللہ معاف کرے۔ تین مرتبہ آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور پوچھا کیا ابوبکر گھر پر موجود ہیں؟ معلوم ہوا کہ نہیں تو آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصہ سے بدل گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم زیادتی میری ہی طرف سے تھی۔ دو مرتبہ یہ جملہ کہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہو یا نہیں؟ آپ نے دو دفعہ یہی فرمایا: آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3661]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی چادر کا ایک کنارہ اٹھائے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ کا گھٹنا ننگا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اور ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی بات پر کچھ جھگڑا ہو گیا تھا۔ میں نے جلدی سے انہیں سخت سست کہہ دیا۔ پھر مجھے ندامت ہوئی۔ میں نے ان سے معذرت کی اور معافی کا سوال کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اب میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» ابوبکر! اللہ تجھے معاف فرمائے۔ آپ نے یہ تین مرتبہ کہا۔ پھر ایسا ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شرمندہ ہوئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پر آئے اور دریافت کیا کہ ابوبکر یہاں موجود ہیں؟ گھر والوں نے جواب دیا: نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ انہیں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہونے لگا حتیٰ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈرے اور دو زانو بیٹھ کر عرض کرنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! زیادتی میں نے ہی کی تھی۔ انہوں نے دو مرتبہ یہ جملہ کہا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا تو تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا لیکن ابوبکر نے مجھے سچا کہا اور انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان سے میری خدمت کی۔ کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ دو گے؟ اور آپ نے یہ دو مرتبہ فرمایا۔ اس ارشاد گرامی کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پھر کسی نے نہیں ستایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں