🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب وقول الله تعالى: {كلوا من طيبات ما رزقناكم} :
باب: اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”مسلمانو! کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جن کی ہم نے تمہیں روزی دی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5375
وَعَنْ أَبي حَازِمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ، فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: عُدْ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ، قَالَ: فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي، وَقُلْتُ لَهُ: فَوَلَّى اللَّهُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ، وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ".
ابوحازم سے روایت ہے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (بیان کیا کہ فاقہ کی وجہ سے) میں سخت مشقت میں مبتلا تھا، پھر میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا۔ آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گر پڑا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کے پاس کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! تیار ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا۔ آپ سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا۔ میں نے اس میں دودھ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوبارہ پیو (ابوہریرہ!) میں نے دوبارہ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالہ کی طرح بھرپور ہو گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اے عمر! اللہ تعالیٰ نے اسے اس ذات کے ذریعہ پورا کرا دیا، جو آپ سے زیادہ مستحق تھی۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے آیت پوچھی تھی حالانکہ میں اسے تم سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پڑھ سکتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے تم کو اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا اور تم کو کھانا کھلا دیتا تو لال لال (عمدہ) اونٹ ملنے سے بھی زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5375]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک دن سخت بھوک لگی تو میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھنا چاہی، انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی، پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ میں تھوڑی دور گیا تو بھوک کی وجہ سے منہ کے بل گر پڑا، (وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کے پیالے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے اس میں سے کچھ دودھ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! دوبارہ پیو۔ میں نے دوبارہ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور پیو۔ میں نے خوب پیا یہاں تک کہ میرا پیٹ بے پر تیر کی طرح سیدھا ہو گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: اے عمر! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس ہستی کے حوالے کر دیا جو تم سے زیادہ حق دار تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ سے ایک آیت کے متعلق پوچھا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے تجھے اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا تو مجھے سرخ اونٹ ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6246
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" أَبَا هِرٍّ: الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ إِلَيَّ"، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا، فَاسْتَأْذَنُوا، فَأُذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو مجاہد نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 6246]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اندر داخل ہوا تو آپ نے پیالے میں دودھ دیکھا۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا، چنانچہ وہ سب آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ جب انہیں اجازت مل گئی تو وہ اندر چلے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6452
حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ بِنَحْوٍ مِنْ نِصْفِ هَذَا الْحَدِيثِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ: أَللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ فَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هِرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الْحَقْ، وَمَضَى فَتَبِعْتُهُ فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لِي فَدَخَلَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ: قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ، قَالَ: أَبَا هِرٍّ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ لِي قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، وَلَا عَلَى أَحَدٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ، كُنْتُ أَحَقُّ أَنَا أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي فَكُنْتُ أَنَا أُعْطِيهِمْ وَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا، فَأَذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، قَالَ: يَا أَبَا هِرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: خُذْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمَ، فَقَالَ: أَبَا هِرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اقْعُدْ فَاشْرَبْ، فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ اشْرَبْ حَتَّى قُلْتُ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا، قَالَ: فَأَرِنِي، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ".
مجھ سے ابونعیم نے یہ حدیث آدھی کے قریب بیان کی اور آدھی دوسرے شخص نے، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا، کہا ہم سے مجاہد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور جو میرے دل میں اور جو میرے چہرے پر تھا آپ نے پہچان لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ چلنے لگے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی۔ جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ کہا فلاں یا فلانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ میں بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے۔ البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلوا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب صفہ والے آئیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی، وہ آ گئے اور اجازت چاہی۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا لو اور اسے ان سب حاضرین کو دے دو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا۔ ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا، لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سچ فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب بالکل گنجائش نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے دے دو، میں نے پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 6452]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں بعض اوقات بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں صحابہ کرام کی آمد و رفت تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے متعلق پوچھا۔ میرے پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں پلائیں لیکن وہ بغیر کچھ کیے وہاں سے چل دیے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق دریافت کیا اور دریافت کرنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں پلائیں لیکن وہ بھی کچھ کیے بغیر چپکے سے گزر گئے۔ ان کے بعد ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو مسکرا دیے۔ میرے چہرے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاڑ لیا اور میرے دل کی بات سمجھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ آ جاؤ۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو آپ کو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اہل خانہ نے کہا: یہ فلاں مرد یا عورت نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: لبیک اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔ اہل صفہ اہل اسلام کے مہمان تھے، وہ گھر بار، اہل و عیال اور مال وغیرہ نہ رکھتے تھے اور نہ کسی کے پاس جاتے ہی تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو وہ ان کے پاس بھیج دیتے اور خود اس سے کچھ نہ کھاتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ آتا تو اس سے کچھ خود بھی کھا لیتے اور ان کے پاس بھی بھیج دیتے تھے اور انہیں اس میں شریک کر لیتے تھے۔ مجھے یہ بات ناگوار گزری۔ میں نے سوچا کہ اس دودھ کی مقدار کیا ہے جو وہ اہل صفہ میں تقسیم ہو؟ اس کا حق دار تو میں تھا اسے نوش کر کے کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب (اہل صفہ) آئیں گے تو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہی فرمائیں گے تو) میں ان میں تقسیم کروں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور ان کے حکم کی بجا آوری کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور انہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی) دعوت پہنچائی۔ وہ آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہیں اجازت مل گئی۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اپنی اپنی جگہ پر فروکش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: لبیک اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیالہ لو اور سب حاضرین کو دودھ پلاؤ۔ میں نے وہ پیالہ پکڑا اور ایک ایک کو پلانے لگا۔ ایک شخص جب پی کر سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ پھر میں دوسرے شخص کو دیتا۔ وہ بھی سیر ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھے واپس کر دیتا، اسی طرح تیسرا پی کر پھر پیالہ مجھے واپس کر دیتا، یہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا جبکہ تمام اہل صفہ دودھ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: لبیک اللہ کے رسول! فرمایا: میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور اسے نوش کرو۔ چنانچہ میں بیٹھ گیا اور دودھ پینا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: اور پیو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور پینے کا مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ مجھے کہنا پڑا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب پینے کی بالکل گنجائش نہیں، اس کے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے دے دو۔ میں نے وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھ کر (ہم سب کا) بچا ہوا دودھ نوش فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 6452]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں