صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب الجذام:
باب: جذام کا بیان۔
حدیث نمبر: 5707
وَقَالَ عَفَّانُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"
اور عفان بن مسلم (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا (ان کو ابونعیم نے وصل کیا) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا، ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5707]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوت لگنا، بدشگونی لینا اور الّو کا منحوس ہونا، یہ سب لغو خیالات ہیں، البتہ کوڑھی آدمی سے اس طرح بھاگ جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5707]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ"، قَالَ: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 313]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے روکا جاتا تھا، سوائے شوہر کے کہ اس کے معاملے میں چار ماہ دس دن تک سوگ کا حکم تھا، نیز یہ بھی حکم تھا کہ اس دوران میں ہم نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ کوئی رنگین کپڑا پہنیں، مگر جس کپڑے کا دھاگا بناوٹ کے وقت ہی رنگا ہوا ہو۔ البتہ حیض سے فراغت کے وقت یہ اجازت تھی کہ جب ہم میں سے کوئی غسلِ حیض کرے تو وہ «کُسْتَ أَظْفَارٍ» ”خوشبو“ استعمال کرے۔ اس کے علاوہ ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔“ اس حدیث کی روایت ہشام بن حسان نے حفصہ رحمہا اللہ سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1280
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا جَاءَ نَعْيُأَبِي سُفْيَانَ مِنْ الشَّأْمِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا , وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةً لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے خبر دی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین) نے تیسرے دن ”صفرہ“ (خوشبو) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 1280]
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب علاقہ شام سے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے کی اطلاع آئی تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے روز زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے ہاتھوں اور رخساروں پر لگایا اور فرمایا: اگرچہ مجھے اس کی قطعاً ضرورت نہ تھی، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو عورت اللہ پر ایمان اور یومِ آخرت پر یقین رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، لیکن اسے اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1282
ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ بِهِ , ثُمَّ قَالَتْ: مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
پھر میں زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی جب کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوا ‘ انہوں نے خوشبو منگوائی اور اسے لگایا ‘ پھر فرمایا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی عورت کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ‘ جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ لیکن شوہر کا سوگ (عدت) چار مہینے دس دن تک کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 1282]
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میں (ام المومنین) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جبکہ ان کا بھائی فوت ہو گیا تھا تو انہوں نے خوشبو منگوا کر اپنے بدن پر لگائی، پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی عورت کے لیے، جو اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے لیکن اسے اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5334
قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔ ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔ اس کے بعد کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار مہینے دس دن کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5334]
حضرت زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جبکہ ان کے والد گرامی حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے وہ خوشبو منگوائی جس میں خلوق وغیرہ کی زردی تھی، وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی۔ انہوں نے خود بھی اسے اپنے رخساروں پر لگایا، اس کے بعد کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کے استعمال کی خواہش نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر شوہر کا چار ماہ دس دن تک سوگ منائے۔“”“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5335
قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَتَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ". قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟
زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا۔ انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور استعمال کیا کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5335]
حضرت زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت ان کے بھائی فوت ہوئے تھے، تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اسے استعمال کیا پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی چنداں ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے فرما رہے تھے: ”جو عورت اللہ اور قیامت پر یقین رکھتی ہے اسے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، صرف شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ ہے۔“” [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5337
قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا.
حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ”سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟“ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5337]
حضرت حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: اس کے کیا معنیٰ ہیں کہ اسے سال کے بعد مینگنی پھینکنی پڑتی؟“ انہوں نے فرمایا: ”(زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تو وہ نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی، پھر بد ترین کپڑے پہن لیتی اور خوشبو کا استعمال بھی ترک کر دیتی حتیٰ کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا۔ پھر کوئی جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیرے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ باہر نکلتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی تھی پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ لگاتی تھی۔“ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: «تَفْتَصُّ بِهِ» کے کیا معنیٰ ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5339
وَسَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
اور میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ ام حبیبہ سے بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی (کی وفات) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5339]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، وہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کر سکتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5343
وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ،" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَمَسَّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْقُسْطُ وَالْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ.
امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ (کسی میت پر) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور (فرمایا کہ) خوشبو کا استعمال نہ کرے، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود (قسط) اور (مقام) اظفار (کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے)، ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں، جیسے ”کافور“ اور ”قافور“ دونوں ایک ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5343]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوگ منانے والی عورت کو خوشبو استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ ہاں، حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑی سی «عُود» استعمال کر سکتی ہے۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رضی اللہ عنہ) نے کہا: ” «قُسْط» اور «كُسْت» ایک ہی چیز ہے جیسے «كَافُور» اور «قَافُور» میں کوئی فرق نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5345]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازوؤں پر لگائی، پھر فرمایا: ”مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ پر ایمان اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5717
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا، فَقَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن سنان کے واسطہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5717]
حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا عَدْوَىٰ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» ”امراض میں چھوت چھات، صفر (پیٹ کی ایک بیماری) کا جان لیوا ہونا اور الو کی نحوست کی کوئی حیثیت نہیں“”، اس پر ایک اعرابی بولا: ”اللہ کے رسول! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا ہے؟ پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے تو سب کو خارشی بنا دیتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے کو خارشی کس نے بنایا تھا؟“ اس حدیث کو امام زہری رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ اور سنان بن ابی سنان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ".
ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے خبر دی، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5757]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت لگ جانا، بدشگونی لینا اور الو یا صفر کی نحوست کوئی شے نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5770
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5770]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متعدی بیماری، صفر کی نحوست اور الو کی کوئی حقیقت نہیں۔“ ایک دیہاتی نے کہا: ”اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے متعلق آپ کیا کہیں گے جو ریگستان میں ہرنوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن ان میں ایک خارشی اونٹ آ جاتا ہے تو وہ سب کو خارشی بنا دیتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5773
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا عَدْوَى".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5773]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5775
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى"، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ، فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
اور زہری سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سنان بن ابی سنان الدؤلی نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کوئی چیز نہیں ہے۔ اس پر ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر پوچھا آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5775]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا عَدْوَىٰ» ”چھوت کوئی چیز نہیں۔“ اس پر ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کی: آپ نے دیکھا ہو گا کہ ریگستان میں اونٹ ہرن کی طرح دوڑتے ہیں، پھر جب ان میں ایک خارشی اونٹ آ جاتا ہے تو باقی اونٹوں کو بھی خارش ہو جاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی تھی؟“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة