🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب الرقى بالقرآن والمعوذات:
باب: قرآن مجید اور معوذات پڑھ کر مریض پر دم کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5735
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا"، فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: كَيْفَ يَنْفِثُ؟، قَالَ: كَانَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5735]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرضِ وفات میں خود پر «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر پر پھیرتی تھی۔ (معمر نے کہا) میں نے امام زہری سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دم کر کے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیر لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4439
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، طَفِقْتُ أَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ".
مجھ سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھ کر دم کر لیا کرتے تھے اور اپنے جسم پر اپنے ہاتھ پھیر لیا کرتے تھے، پھر جب وہ مرض آپ کو لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں معوذتین پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور ہاتھ پر دم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 4439]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات سے اپنے بدن پر دم کرتے اور اپنا ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی تھی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5016
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے (اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا) پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5016]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات کی سورتیں پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے، پھر جب آپ کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسدِ اطہر پر پھیرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5751
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ، كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا"، فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ: كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ؟، قَالَ: يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (معمر نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5751]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضِ وفات میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشوار ہو گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی تھی۔ میں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیر لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں