🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الإقامة واحدة، إلا قوله قد قامت الصلاة:
باب: اس بارے میں کہ سوائے «قد قامت الصلاة» کے اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ"، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُ لِأَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں یہی کلمات ایک ایک دفعہ۔ اسماعیل نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا مگر لفظ «قد قامت الصلوة» دو ہی دفعہ کہا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 607]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان (کے کلمات) جفت اور اقامت (کے کلمات) طاق (ایک ایک مرتبہ) کہیں۔ (راویِ حدیث) اسماعیل کہتے ہیں: میں نے (اپنے شیخ) ایوب سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ہاں (اقامت کے کلمات طاق ہونے چاہئیں) سوائے «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» نماز کھڑی ہو گئی کے (کہ انہیں دو مرتبہ کہا جائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى،: ذَكَرُوا النَّارَ" فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ (نماز کے وقت کے اعلان کے لیے) لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا۔ پھر یہود و نصاریٰ کا ذکر آ گیا۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک ایک مرتبہ۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 603]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نماز کے اعلان کے لیے لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا، اس سلسلے میں انہوں نے یہود و نصاریٰ کا بھی تذکرہ کیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے ایک ایک مرتبہ کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں