صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب احتساب الآثار:
باب: (جماعت کے لیے) ہر ہر قدم پر ثواب ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے بنو سلمہ والو! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 655]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کے بدلے ثواب کے طلب گار کیوں نہیں ہو؟“ امام مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد باری تعالیٰ: ﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ [سورة يس: 12] ”ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجے اور وہ آثار بھی جو پیچھے چھوڑ گئے ہیں“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: «آثَارَهُمْ» سے مراد ان کے قدم ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 656
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ، قَالَ خُطَاهُمْ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَنْزِلُوا قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟ قَالَ مُجَاهِدٌ: خُطَاهُمْ آثَارُهُمْ أَنْ يُمْشَى فِي الْأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ.
اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان (جو مسجد سے دور تھے) چھوڑ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں۔ (تاکہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ مجاہد نے کہا (سورۃ یٰسین میں) «وآثارهم» سے قدم مراد ہیں۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 656]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ قبیلے نے نقل مکانی کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا کہ وہ مدینے کو ویران کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے قدموں کے بدلے ثواب کے طلب گار کیوں نہیں ہو؟“ امام مجاہد رحمہ اللہ نے «آثَارَهُمْ» کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے معنی زمین پر اپنے قدموں سے چلنے کے نشانات ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، وَقَالَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ، فَأَقَامُوا".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کر لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنو سلمہ نے (اپنی اصلی اقامت گاہ میں) رہائش باقی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 1887]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنو سلمہ قبیلے نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب منتقل ہو جائیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ طیبہ کو یوں بے آباد کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشاناتِ قدم کا ثواب نہیں لینا چاہتے ہو؟“ یہ سن کر بنو سلمہ نقل مکانی سے رک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة