صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب فى الحوض:
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6578
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْكَوْثَرُ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ"، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ.
مجھ سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر اور عطاء بن سائب نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی (خیر کثیر) ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر (بھلائی) کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ” «الْكَوْثَرُ» (کوثر) سے مراد خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھی۔“ (راویِ حدیث) ابوبشر نے کہا: میں نے حضرت سعید بن جبیر سے کہا: ”کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے“، تو انہوں نے جواب دیا: ”جو نہر جنت میں ہے وہ بھی خیر کثیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4964
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ:"أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" قَالَ:" هَذَا الْكَوْثَرُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے ڈیرے لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ نہر کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے (جو اللہ نے آپ کو دیا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4964]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”میں ایک نہر کے کنارے پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ نہر کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ کوثر ہے (جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4965
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْكَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ:" سَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَتْ:" نَهَرٌ أُعْطِيَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاطِئَاهُ عَلَيْهِ دُرٌّ مُجَوَّفٌ آنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ".رَوَاهُ زَكَرِيَّاءُ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَمُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
ہم سے خالد بن یزید کاہلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوعبیدہ نے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إنا أعطيناك الكوثر» یعنی ”ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے“ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ (کوثر) ایک نہر ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بخشی گئی ہے، اس کے دو کنارے ہیں جن پر خولدار موتیوں کے ڈیرے ہیں۔ اس کے آبخورے ستاروں کی طرح ان گنت ہیں۔ اس حدیث کی روایت زکریا اور ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4965]
حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ﴿إِنَّآ أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے، اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے ہیں اور اس کے آبخورے ستاروں کی طرح اَن گنت ہیں۔““ اس حدیث کو زکریا، ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4966
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" فِي الْكَوْثَرِ هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: فَإِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوالبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کوثر کے متعلق کہ وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے عرض کی، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے؟ سعید نے کہا کہ جنت کی نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4966]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے «الْكَوْثَرَ» کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد خیرِ کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔“ (راویِ حدیث) ابوبشر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا: ”لوگوں کا تو خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے؟“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”جنت کی نہر بھی اس خیرِ کثیر سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4966]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6581
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ أَوْ طِيبُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ"، شَكَّ هُدْبَةُ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6581]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کی سیر کرتے کرتے ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خول دار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرئیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ «الْكَوْثَرُ» ”کوثر“ ہے جو آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے، میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی، خوشبو یا مٹی کے الفاظ میں راوی ہدبہ کو شک تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة