صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب من ادعى إلى غير أبيه:
باب: جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6766
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا یہ ابن عبداللہ ہیں، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6766]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف کی، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، تو اس پر جنت حرام ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6766]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَبَا بَكْرَةَ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، وَقَالَ هِشَامٌ: وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ: لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا، قَالَ: أَجَلْ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 4326]
حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا، نیز میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے“۔ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا“۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: ”آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو آپ کو کافی ہیں“۔ انہوں نے کہا: ”ہاں، کیونکہ ان میں سے ایک (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور دوسرے (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) تئیس (23) مردوں میں سے تیسرے شخص ہیں جو طائف کے قلعے سے اتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة