صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب قول الله تعالى: {ومن أحياها} :
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا ”جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی“۔
حدیث نمبر: 6872
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، قَالَ: وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا غَشِينَاهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا، بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لِي: يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف (مہم پر) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6872]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقہ کی طرف روانہ کیا۔ ہم نے ان لوگوں کو صبح صبح ہی جا لیا اور شکست سے دوچار کر دیا، چنانچہ میں اور انصار کا ایک آدمی ان کے ایک شخص تک پہنچے، جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ دیا۔ انصاری نے تو (یہ سن کر) اپنا ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اس کا کام تمام کر دیا۔ جب ہم واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا تو نے اسے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا؟“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اقرار کیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہنے کے بعد قتل کر دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جملے کو بار بار دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگئی: کاش! میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6872]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4269
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟"، قُلْتُ: كَانَ مُتَعَوِّذًا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص (مرداس بن عمر نامی) سے بھڑ گئے۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا (اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا)۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے (کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 4269]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرقہ کی طرف روانہ کیا۔ ہم نے اس قوم پر صبح کے وقت حملہ کر کے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ اس دوران میں، میں اور ایک انصاری آدمی کفار کے ایک شخص سے ملے۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہنے لگا۔ انصاری تو فوراً رک گیا، لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسامہ! تو نے اسے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھنے کے بعد قتل کر دیا؟“ میں نے عرض کی: اس نے تو قتل سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھا تھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی، کاش! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة