🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7342
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ، فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَقَانِي سَوِيقًا، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا، وَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ".
ہم سے ابوکریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید نے بیان کیا، کہا کہ میں مدینہ منورہ آیا اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور پھر ہم اس نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجور کھلائی اور میں نے ان کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7342]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں مدینہ طیبہ آیا تو مجھے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ملے اور انہوں نے مجھے کہا: تم میرے گھر چلو، میں تمہیں اس پیالے میں پانی پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا تھا اور اس مسجد میں نماز پڑھو گے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی۔“ پھر میں ان کے ساتھ گیا تو انہوں نے مجھے ستو پلائے اور کھجوریں کھلائیں، نیز میں نے ان کی مسجد میں نماز بھی ادا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3814
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ , أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ، فَإِنَّهُ رِبًا" , وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ , وَأَبُو دَاوُدَ , وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْت".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک (باعظمت) مکان میں داخل ہو گے (کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے (اپنی روایتوں میں) «البيت‏.‏» (گھر) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 3814]
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں مدینہ طیبہ آیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم میرے گھر نہیں آتے؟ (آؤ) میں تمہیں ستو اور کھجور کھلاؤں گا۔ تم میرے گھر میں آؤ (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بابرکت ہے)۔ پھر فرمایا: تم ایسی سرزمین میں رہتے ہو جہاں سود کا بہت رواج ہے۔ اگر تمہارا کسی شخص کے ذمے کوئی حق (فرض) ہو اور وہ تمہیں توڑی، جو یا چارہ وغیرہ ہدیہ بھیجے تو اسے مت قبول کرنا کیونکہ یہ سود ہے۔“ نضر، ابوداؤد اور وہب نے شعبہ سے ”گھر“ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں