صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى عرفة:
باب: تکبیر منیٰ کے دنوں میں اور جب نویں تاریخ کو عرفات میں جائے۔
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنِ التَّلْبِيَةِ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي لَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن ابی بکر ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسے کس طرح کہتے تھے۔ اس وقت ہم منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے اور تکبیر کہنے والے تکبیر۔ اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 970]
محمد بن ابوبکر ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم صبح کے وقت منیٰ سے عرفات جا رہے تھے تو میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق سوال کیا کہ آپ حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جاتے وقت کس طرح کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہنے والا «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور اسی طرح تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اسے منع نہیں کیا جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَقَالَ:" كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ مِنَّا الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے محمد بن ابی بکر ثقفی سے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ جب کہ وہ دونوں صبح کو منیٰ سے عرفات جا رہے تھے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگ آج کے دن کس طرح کرتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا: کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا ہوتا، اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور کوئی تکبیر کہتا، اس پر کوئی انکار نہ کرتا (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی کو اختیار ہے لبیک پکارتا رہے یا تکبیر کہتا رہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 1659]
حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، جب یہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے: آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جاتے وقت اس دن کیا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم میں سے کچھ تلبیہ کہتے تھے، انہیں کوئی بُرا نہیں کہتا تھا جبکہ کچھ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے تھے، انہیں بھی کوئی بُرا خیال نہیں کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة