صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب حمل العنزة أو الحربة بين يدي الإمام يوم العيد:
باب: امام کے آگے آگے عید کے دن عنزہ یا حربہ لے کر چلنا۔
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ، وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے تو برچھا (ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا پھر یہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آڑ میں نماز پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 973]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے عیدگاہ کی طرف تشریف لے جاتے اور نیزہ آپ کے آگے آگے اٹھایا جاتا تھا، اسے عیدگاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (مدینہ سے) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزہ (برچھا) کو گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی کیا کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 494]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (مدینے سے) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹا نیزہ گاڑنے کا حکم دیتے۔ جب اس کی تعمیل کر دی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ دورانِ سفر میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے بھی اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت اپنا لی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 494]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 498
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ کے واسطے سے بیان کیا، کہا مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 498]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 499]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے سامنے وضو کا پانی پیش کیا گیا، چنانچہ آپ نے وضو فرمایا اور ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی جبکہ آپ کے سامنے چھوٹا نیزہ تھا، عورتیں اور گدھے نیزے کے آگے سے گزر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ خَرَجَ بِلَالٌ بِالْعَنَزَةِ حَتَّى رَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں جعفر بن عون نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالعمیس نے بیان کیا، انہوں نے عون بن ابی حجیفہ سے ابوحجیفہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابطح میں دیکھا کہ بلال حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی پھر بلال رضی اللہ عنہ برچھی لے کر آگے بڑھے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (بطور سترہ) مقام ابطح میں گاڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کو سترہ بنا کر) نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 633]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی ابطح میں دیکھا کہ آپ کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی، پھر نیزہ لے کر چلے گئے تاآنکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وادی ابطح میں گاڑ دیا، پھر انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ الْحَرْبَةُ قُدَّامَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ثُمَّ يُصَلِّي".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عیدالفطر اور عید الاضحی کی نماز کے لیے برچھی آگے آگے اٹھائی جاتی اور وہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی آڑ میں نماز پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 972]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5786
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ:" فَرَأَيْتُ بِلَالًا جَاءَ بِعَنَزَةٍ فَرَكَزَهَا، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم کو عون بن ابی جحیفہ نے خبر دی، ان سے ان کے والد ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5786]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک چھوٹا سا نیزہ اٹھا کر لائے اور اسے زمین میں گاڑ دیا۔ پھر انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سرخ رنگ کا جوڑا زیب تن کیے ہوئے باہر تشریف لائے، جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا، پھر آپ نے نیزے کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز (عید) پڑھائی، میں نے انسانوں اور چوپایوں کو دیکھا کہ وہ نیزے کے پیچھے سے اور آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة