صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب القراءة في الظهر والعصر:
باب: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1016
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاق "،
ہشیم نے عبدالملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور (اس میں) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا، اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: یقیناً میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، اس میں کمی نہیں کرتا۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! آپ کے بارے میں گمان (بھی) یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1016]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، اور ان کی نماز پر اعتراض کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا تو وہ آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں نے جو نماز کی شکایت کی تھی، اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے (سعد) کہا، ”میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، میں اس میں کمی نہیں کرتا، میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں،“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو اسحاق، تم سے یہی امید تھی (تمہارے بارے میں یہی گمان تھا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1017
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(ہشیم کے بجائے) جریر نے عبدالملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1017]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1018
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ "،
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) پہلی دو رکعتوں میں (قیام کو) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں، میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1018]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگوں نے تیری ہر چیز، حتیٰ کہ نماز پڑھانے کی بھی شکایت کی ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ”رہا میں تو میں پہلی دو رکعتوں میں قیام لمبا کرتا ہوں آخری دو رکعتوں میں تھوڑا قیام کرتا ہوں، اور جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ”آپ کے بارے میں یہی گمان تھا، یا آپ کے بارے میں میرا ظن یہی تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1019
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فَقَالَ: تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ.
مسعر نے عبدالملک (بن عمیر) اور ابوعون سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ (میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سیکھی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1019]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، ”یہ بدوی مجھے نماز سکھاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة