🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. باب الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:
باب: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 451 ترقیم شاملہ: -- 1012
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ ".
حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ اور ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں (ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1012]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ہر رکعت میں کوئی ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھی ہمیں بھی کوئی ایک آیت سنا دیتے اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 451
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 451 ترقیم شاملہ: -- 1013
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
(حجاج کے بجائے) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں (سے ہر رکعت میں) سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1013]
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں فاتحہ اور ایک سورة پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار بلند آواز سے پڑھتے تھے کہ ہم بھی سن لیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سورة فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 451
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 452 ترقیم شاملہ: -- 1014
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ، عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: الم تَنْزِيلُ، وَقَالَ: قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً ".
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ولید بن مسلم سے، انہوں نے ابوصدیق (ناجی) سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ «الم تَنْزِيلُ» (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا۔ امام مسلم کے استاد ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں «الم تَنْزِيلُ» (کا نام) ذکر نہیں کیا، انہوں نے کہا: تیس آیات کے بقدر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1014]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ «المٓ تَنْزِيل» (السجدة) کی قرأت کے بقدر لگایا، اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر کیا، اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا، اور عصر کی آخری دو رکعتوں کا قیام، اس سے آدھا تھا، ابو بکر رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں «المٓ تَنْزِيل» کا نام نہیں لیا اور کہا تیس آیات کے بقدر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1014]
ترقیم فوادعبدالباقی: 452
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 452 ترقیم شاملہ: -- 1015
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ، قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، أَوَ قَالَ: نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِك".
ابوعوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا: اس (پہلی دو) سے نصف۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1015]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قرأت فرماتے تھے، اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا کہ پہلی دو سے نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر آخری دو میں اس سے نصف۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1015]
ترقیم فوادعبدالباقی: 452
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1016
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاق "،
ہشیم نے عبدالملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور (اس میں) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا، اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: یقیناً میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، اس میں کمی نہیں کرتا۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! آپ کے بارے میں گمان (بھی) یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1016]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، اور ان کی نماز پر اعتراض کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا تو وہ آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں نے جو نماز کی شکایت کی تھی، اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے (سعد) کہا، میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، میں اس میں کمی نہیں کرتا، میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق، تم سے یہی امید تھی (تمہارے بارے میں یہی گمان تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1017
(ہشیم کے بجائے) جریر نے عبدالملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1017]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1018
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ "،
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) پہلی دو رکعتوں میں (قیام کو) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں، میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1018]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگوں نے تیری ہر چیز، حتیٰ کہ نماز پڑھانے کی بھی شکایت کی ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا رہا میں تو میں پہلی دو رکعتوں میں قیام لمبا کرتا ہوں آخری دو رکعتوں میں تھوڑا قیام کرتا ہوں، اور جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کے بارے میں یہی گمان تھا، یا آپ کے بارے میں میرا ظن یہی تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 453 ترقیم شاملہ: -- 1019
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فَقَالَ: تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ.
مسعر نے عبدالملک (بن عمیر) اور ابوعون سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ (میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سیکھی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1019]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، یہ بدوی مجھے نماز سکھاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 454 ترقیم شاملہ: -- 1020
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، مِمَّا يُطَوِّلُهَا ".
عطیہ بن قیس نے قزعہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر (مسجد میں) آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1020]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی تو کوئی جانے والا بقیع جاتا اور اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر مسجد میں آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کے قیام کے طویل ہونے کی بنا پر ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 454
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 454 ترقیم شاملہ: -- 1021
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ، فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ".
ربیعہ نے کہا: قزعہ نے مجھے حدیث سنائی، کہا: میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس (استفادے کے لیے) کثرت سے لوگ موجود تھے۔ جب یہ لوگ ان سے (رخصت ہو کر) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی: میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ میں نے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھ سکو گے)۔ انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا، اپنی ضرورت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1021]
حضرت قزعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس (استفادہ کے لیے) بہت سے لوگ موجود تھے تو جب لوگ منتشر ہو گئے (چلے گئے) میں نے عرض کیا، میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا، جن کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے، میں نے کہا، میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں تو انہوں نے کہا، اس سوال میں تیرے لیے بہتری یا بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم ایسی نماز ہمیشہ پڑھ نہیں سکو گے) اس نے دوبارہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا، ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا اور اپنی ضرورت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر واپس مسجد میں آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 454
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں