🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب ما يقول إذا رفع راسه من الركوع:
باب: جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 476 ترقیم شاملہ: -- 1067
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے:اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1067]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جب رکوع سے اپنی رضی بدھا توتا سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اللَّھُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (الحدیث)، کہتا: اے اللہ! ہمارا آقا و مالک تیرا لیا ہی تعریف و توصیف ہے، آسمانوں کی پورائی اور زمین کی پورائی اور جس چیز کی بھرائی تو ان کا سوا چاہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 476
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 476 ترقیم شاملہ: -- 1068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
شعبہ نے عبید بن حسن سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات والأرض وما شئت من شيء بعد。 (اے اللہ ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمان اور زمین تک اور اس کے علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1068]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتا تھا، اے اللہ! ہمارا آقا تیری ہی تعریف آسمان بھر کر اور زمین بھر کرا اور کر سکت سکتے جو سکت توا چھا سکتے وہ سکت کر۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 476
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 476 ترقیم شاملہ: -- 1069
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ "،
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اللهم لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد، اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد، اللهم طهرني من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الوسخ。 (اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1069]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ جا نبیا کریم رضی سکت کرتا ہیں کہا کر سکتے تھا: اے اللہ، ہمارا آقا تیرا لیا وہ حمد سزاوار ہے، جس سکت آسمان بھرجائیں، زمین بھر جائیں اور کر سکت جو ظرف توا چھا وہ بھر جائیں اے اللہ مجھا برف، اولوں اور ٹھنڈا پانی سکت پاک صاف کر دیں، اے اللہ! مجھا گناہوں اور خطاؤں سکت اس طرح پاک صاف کر دیں جس کر سفید کپڑا میل کچھیل سکت صاف کیا جاتا کر۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 476
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 476 ترقیم شاملہ: -- 1070
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَكِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ: كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّرَنِ، وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ: مِنَ الدَّنَسِ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ معاذ کی روایت میں (من الوسخ کے بجائے) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں (تینوں لفظوں کے معنی ایک ہی ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنا دوا اور استادو سکت مذخور رضی سکت کی رضی رہ ہیں، معاض رضیہ اللہ رحمہ اللہ رضی کہ رہ می رہ الوَسخِلا رضی جہ الدَّرَنِ نَا اورزہ کہ سہ کہ الدَّلنَسِ ہا سکتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 476
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں