Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب سترة المصلي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1124
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ، فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1124]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آگے بڑھا جبکہ میں بلوغت کے قریب تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو میں صف کے آگے سے گزرا پھر میں گدھی سے اترا صف میں شریک ہو گیا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اس پر مجھے کسی نے اعتراض نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1125
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے کہا: گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1125]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ گدھی پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقعہ پر منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، گدھی صف کے کچھ حصہ کے آگے سے گزری، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ (ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالباً منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1126]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1127
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: مِنًى، وَلَا عَرَفَةَ، وَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ.
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1127]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا حجتہ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں