صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الامر بالإيمان بالله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم وشرائع الدين والدعاء إليه والسؤال عنه وحفظه وتبليغه من لم يبلغه
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 115
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، فَقَالَ: " شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ "، زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَقَدَ وَاحِدَةً.
خلف بن ہشام نے بیان کیا (کہا) ہمیں حماد بن زید نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: (الفاظ انہی کے ہیں) ہمیں عباد بن عباد نے ابوجمرہ سے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا۔ وہ (لوگ) کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ (یعنی) بنو ربیعہ کا یہ قبیلہ ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان (قبیلہ) مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا بحفاظت آپ تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ حکم دیجیے جس پر خود بھی عمل کریں اور جو پیچھے ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: (جن کا حکم دیتا ہوں وہ ہیں:) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے ایمان باللہ کی وضاحت کی، فرمایا: ”اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالیقین اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور جو مال غنیمت تمہیں حاصل ہو، اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا۔ اور میں تمہیں روکتا ہوں کدو کے برتن، سبز گھڑے، لکڑی کے اندر سے کھود کر (بنائے ہوئے) برتن اور ایسے برتنوں کے استعمال سے جن پر تارکول ملا گیا ہو۔“ خلف نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”اس (سچائی) کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔“ اسے انہوں نے انگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 115]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ قبیلے کے افراد ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلہ جو کافر ہے، حائل ہے اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ لہٰذا آپ ہمیں کسی ایسے امر (حکم، بات) کا حکم دیجیے جس پر ہم عمل پیرا ہوں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: 1۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ کی تفسیر کی، فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں۔ 2۔ نماز قائم کرنا۔ 3۔ زکوٰۃ ادا کرنا۔ 4۔ مال غنیمت جو تمہیں حاصل ہو اس سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ اور میں تمہیں دباء (کدو کا تونبہ)، سبز گھڑے، لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔“ خلف نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا، ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کا اقرار۔“ اور اس کو آپ نے انگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: اداء الخمس من الايمان برقم (53) وفى المواقيت، باب: ﴿ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴾ برقم (523) وفي الزكاة باب: وجوب الزكاة برقم (1398) وفى فرض الخمس، باب: اداء الخمس من الدين برقم (3095) وفى المناقب، باب: 5 - برقم (3510) وفي المغازي باب: وقد عبد القيس برقم (4368 و 4369) وأخرجه ايضا فى الادب، باب: قول الرجل: مرحبا برقم (6176) وفى اخبار الاحاد، باب: وصاة النبى صلى الله عليه وسلم وفود العرب ان يبلغوا من ورائهم برقم (7266) وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ﴾ برقم (7556)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَة، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وفدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ الْوَفْدُ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ، أَوْ بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَى، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ، مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، قَالَ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ: وَقَالَ: احْفَظُوهُ، وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: مَنْ وَرَاءَكُمْ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ.
شعبہ نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور (دوسرے) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا، ان کے پاس ایک عورت آئی، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا وفد ہے؟ (یا فرمایا: یہ کون لوگ ہیں؟)“ انہوں نے کہا: ربیعہ (قبیلہ سے ہیں)۔ فرمایا: ”اس قوم (یا وفد) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا، ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ (حائل) ہے، ہم (کسی) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے (گھروں میں) پیچھے لوگوں کو (بھی) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے روکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: ”جانتے ہو، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو۔“ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن (استعمال کرنے) سے منع کیا۔ (شعبہ نے کہا:) ابوجمرہ نے شاید نقیر (لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن) کہا یا شاید مقیر (تارکول ملا ہوا برتن) کہا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے (والوں کو) بتا دو۔“ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ( «من ورائكم» کے بجائے) «من وراءكم» (ان کو (بتاؤ) جو تمہارے پیچھے ہیں) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں (بلکہ نقیر کا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 116]
ابو جمرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمان تھا۔ ان کے پاس ایک عورت ان سے گھڑے کے نبیذ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ وفد کون ہے؟ یا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ فرمایا قوم یا وفد کو خوش آمدید! جسے رسوائی ذلت اور شرمندگی و ندامت نہیں اٹھانی پڑی۔ ان لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان یہ کافر قبیلہ مضر حائل ہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرمت والے مہینوں کے سوا نہیں آ سکتے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دوٹوک (فیصلہ کن) بات بتائیے۔ ہم اس کو اپنے پچھلے لوگوں کو بتائیں اور اس کے ذریعہ سے ہم جنت میں چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: جانتے ہو! صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ دینا اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن سے منع کیا۔“ شعبہ کہتے ہیں: ابو جمرہ رحمہ اللہ نے بعض دفعہ نقیر لکڑی میں کھدائی کیا ہوا برتن کہا اور بعض دفعہ مقیر تارکول ملا ہوا برتن کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو خود یاد رکھو اور اس کی اپنے پچھلوں کو خبر دو۔“ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں «مِنْ وَرَاءَكُمْ» کی بجائے «مَنْ وَرَاءَكُمْ» کے الفاظ ہیں اور اس کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث السابق برقم (115)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 117
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ: أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ".
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی (سابقہ روایت کی) طرح حدیث بیان کی (اس کے الفاظ ہیں:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن، لکڑی سے تراشیدہ برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے (اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے)۔“ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے پیشانی پر زخم والے شخص (اشج) سے کہا: ”تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: عقل اور تحمل۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 117]
ابو جمرہ رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو دباء (تونبہ لکڑی کے تراشیدہ برتن) سبز مٹکے اور تار کول ملے برتن میں تیار کیا جائے۔ ابن معاذ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: ”تم میں دو خوبیاں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: عقل و سمجھ داری اور ٹھہراؤ و وقار۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث قبل السابق برقم (115)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 5178
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ ". وَفِي حَدِيثِ حَمَّاد ٍ جَعَلَ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ الْمُزَفَّتِ.
عباد بن عباد اور حماد بن زید نے ابوحمزہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، سبز گھڑوں، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں اور روغن قار ملے ہوئے برتنوں (میں نبیذ بنانے اور پینے) سے منع کرتا ہوں۔“ حماد نے اپنی حدیث میں مقیر کے بجائے مزفت کا لفظ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 5179
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ".
حبیب بن ابی ثابت نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو، سبز گھڑوں، روغن زفت ملے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی (کے برتنوں) سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5179]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز مٹکے، لاکھی برتن اور چٹھو سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 5180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ ".
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو، سبز گھڑوں، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں (میں نبیذ بنانے) سے اور کچی اور نیم پختہ کھجوروں کو (مشروب بناتے ہوئے باہم) ملانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5180]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز مٹکے، لاکھی برتن اور کھوکھلے تنہ سے منع فرمایا اور ڈڈری کو گدری کھجور سے ملانے سے۔ البلح، [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 5181
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ ".
یحییٰ بن ابی عمر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، کھوکھلی لکڑی اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 5181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة