🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب نهي من اكل ثوما او بصلا او كراثا او نحوها عن حضور المسجد:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1253
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثُومًا، أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا "، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ، فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي.
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا۔ حرملہ کی روایت میں ہے، ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے۔ اور ایسا ہوا کہ (ایک دفعہ) آپ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کچھ سبز ترکاریاں تھیں، آپ نے ان سے کچھ بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا۔ آپ کو ان ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا جو اس میں (ڈالی گئی) تھیں تو آپ نے اسے اپنے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس لے جانے کو کہا۔ جب اس نے بھی اسے دیکھ کر (آپ کی ناپسندیدگی کی بنا پر) اس کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا: تم کھا لو کیونکہ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتے ہو۔ (اس سے فرشتے مراد ہیں۔ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1253]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجدوں سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بدبو محسوس کی اور پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو فلاں ساتھی کے قریب کر دو۔ تو اس نے اسے دیکھ کر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کراہت کی بنا پر) اسے ناپسند کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھا لو کیونکہ میں اس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم سرگوشی نہیں کرتے ہو۔ یعنی میں فرشتوں سے سرگوشی کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1254
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، الثُّومِ، وَقَالَ مَرَّةً: " مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ، وَالثُّومَ، وَالْكُرَّاثَ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ ".
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ ترکاری لہسن کھائی۔ اور ایک دفعہ فرمایا: جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے (بھی) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1254]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ ترکاری، لہسن کھایا۔ اور ایک دفعہ فرمایا: جس نے پیاز، لہسن یا گندنا کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں، جن سے انسانوں کو اذیت پہنچتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1255
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، يُرِيدُ الثُّومَ، فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ.
محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے (دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے) کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے (آپ کی مراد لہسن سے تھی) میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔ اور انہوں (ابن جریج) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس پودے (لہسن مراد ہے) سے کھایا وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔ پیاز اور گندنا کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں