صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب استحباب التبكير بالصبح في اول وقتها وهو التغليس وبيان قدر القراءة فيها:
باب: صبح کی نماز کے لئے سویرے جانے اور اس کی قرأت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1457
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلهم، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتی تھیں، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور (اندھیرے کی وجہ سے) کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1457]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس آتیں اور انہیں (اندھیرے کی وجہ سے) کوئی پہچان نہیں پاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1458
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ، وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ ".
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر پہچانی نہ جا سکتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1458]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ مسلمان عورتیں فجر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، درآں حالیکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1459
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ "، وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: مُتَلَفِّفَاتٍ.
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا: ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایسا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں، (اور) اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ انصاری کی روایت میں ( «متلفعات» کے بجائے) «متلففات» (چادروں میں لپٹی ہوئی) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1459]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی گھروں کو لوٹتیں، اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں، انصاری کی روایت میں مُتَلَفِّعَات کی جگہ مُتَلَفِّفَات ہے، چادروں میں ملفوف۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة