صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب فضل صلاة العشاء والصبح في جماعة:
باب: نماز عشاء اور فجر جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 657 ترقیم شاملہ: -- 1493
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَيُدْرِكَهُ، فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ".
بشر، یعنی ابن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے خالد سے اور انہوں نے انس بن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری (امان) میں ہے۔ تو ایسانہ ہو کہ (ایسے شخص کو کسی طرح نقصان پہنچانے کی بنا پر) اللہ تعالیٰ تم (میں سے کسی شخص) سے اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ کرے، پھر وہ اسے پکڑ لے، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1493]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ کی امان یا ذمہ داری میں ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے اپنی پناہ میں آنے والے کے بارے میں مطالبہ نہ کرے، (اگر کسی نے اس کی پناہ میں آنے والے کو ستایا اور اس نے اس کا مؤاخذہ کیا) تو وہ اس کو پکڑ کر جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 657
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 657 ترقیم شاملہ: -- 1494
وحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ".
اسماعیل نے خالد سے اور انہوں نے انس بن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے جندب (بن عبداللہ) قسری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز ادا کی، وہ اللہ کے ذمے میں آگیا، (دعا ہے) اللہ تم سے اپنے ذمے کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہ کرے کیونکہ جس سے وہ اپنے ذمے میں سے کسی چیز کا مطالبہ کر لے، اسے پالیتا ہے، پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1494]
حضرت جندب قسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز پڑھ لی تو وہ اللہ کے حفظ و امان میں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری میں آنے والے کے بارے میں کچھ بالکل نا کرے کیونکہ وہ جس سے اپنی پناہ کے بارے میں کچھ مطالبہ کرے گا وہ اسے پکڑ لے گا پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1494]
ترقیم فوادعبدالباقی: 657
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 657 ترقیم شاملہ: -- 1495
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ.
یہی روایت حسن بصری نے جندب بن سفیان کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی (لیکن آخری فقرہ) «فیکبہ فی نار جہنم» (اس کو جہنم میں اوندھے منہ پھینک دیتا ہے) بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1495]
یہی روایت حسن بصری جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں لیکن آخری فقرہ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّم، اس کو جہنم میں اوندھے منہ پھینک دے گا۔ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1495]
ترقیم فوادعبدالباقی: 657
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة