🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الصلاة في الرحال في المطر:
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 697 ترقیم شاملہ: -- 1600
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ، ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ".
امام مالک نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی اور ہوا والی ایک رات اذان کہی اور اس کے آخر میں کہا: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» (سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔) پھر کہا کہ جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» (سنو! اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1600]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد اور ہوا دار رات میں اذان دی اور کہا: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» خبردار! گھروں میں نماز پڑھ لو۔ پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ کہہ دے «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» سنو! نماز گھروں میں پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1600]
ترقیم فوادعبدالباقی: 697
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 697 ترقیم شاملہ: -- 1601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ، وَرِيحٍ، وَمَطَرٍ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ، أَوْ ذَاتِ مَطَرٍ فِي السَّفَرِ، أَنْ يَقُولَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سردی، ہوا اور بارش والی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا: سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو، سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ پھر کہا: جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِكُمْ» (سنو! اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1601]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سردی، ہوا اور بارش والی رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا: خبردار اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو، سنو گھروں میں نماز پڑھو۔ پھر بتایا کہ جب سفر میں رات سرد ہوتی یا بارش ہو رہی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے: «أَلَا صَلُّوُا فِي رِحَالِكُمْ» خبردار اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1601]
ترقیم فوادعبدالباقی: 697
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 697 ترقیم شاملہ: -- 1602
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے (مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع) بضاع نامی پہاڑ پر اذان کہی۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور (ابواسامہ نے) کہا: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِكُمْ» اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوبارہ «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کہنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1602]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ضجنان پہاڑ پر اذان کہی، پھر اوپر والی بات بیان کی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: «أَلَا صَلُّوْا فِي رِحَالِكُمْ» خبردار! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوبارہ «أَلَا صَلُّوْا فِي رِحَالِكُمْ» خبردار! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ کہنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1602]
ترقیم فوادعبدالباقی: 697
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں