صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب جواز النافلة قائما وقاعدا وفعل بعض الركعة قائما وبعضها قاعدا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 733 ترقیم شاملہ: -- 1712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے سائب بن یزید سے، انہوں نے مطلب بن ابی وداعہ سہمی سے اور انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر کبھی نہ پڑھتے دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے کا زمانہ ہوا تو آپ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے۔ آپ سورت کی قراءت کرتے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ (یعنی بیٹھ کر لیکن اور بھی زیادہ لمبی نماز پڑھتے) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1712]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفلی نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ وفات سےایک سال پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ پڑھتے اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ اپنے سے طویل سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1712]
ترقیم فوادعبدالباقی: 733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 733 ترقیم شاملہ: -- 1713
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌجَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: بِعَامٍ وَاحِدٍ، أَوِ اثْنَيْنِ.
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت کی، البتہ ان دونوں (یونس اور معمر) نے ایک یا دو سال کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1713]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ ہے جب ایک یا دو سال رہ گئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة