صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 735 ترقیم شاملہ: -- 1715
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟ قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَنَّكَ قُلْتَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ".
جریر نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر آدمی کی نماز (اجر میں) آدھی نماز ہے۔“ انہوں نے کہا: ایک بار میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر مبارک پر رکھا۔ آپ نے پوچھا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے: ”بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے۔“ جبکہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایسا ہی ہے، لیکن میں تم میں سے کسی ایک طرح کا نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1715]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”آدمی کی بیٹھ کر نماز آدھی نماز ہے۔“ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا، تو میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر رکھ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”آدمی کی بیٹھ کر نماز آدھی نماز کے برابر ہے۔“ یعنی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں آدھا اجر ملتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1715]
ترقیم فوادعبدالباقی: 735
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 735 ترقیم شاملہ: -- 1716
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الأَعْرَجِ.
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ شعبہ کی روایت میں ہے: ”ابویحییٰ الاعرج سے روایت ہے“ (انہوں نے ابویحییٰ کے ساتھ ان کے لقب الاعرج کا بھی ذکر کیا ہے) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1716]
مصنف نے یہی حدیث دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1716]
ترقیم فوادعبدالباقی: 735
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة