صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه:
باب: نماز اور دعائے شب۔
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1788
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى، أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا "، قَالَ كُرَيْبٌ: وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ، فَذَكَرَ: عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي، وَذَكَرَ: خَصْلَتَيْنِ.
سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت (کی جگہ) آئے، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر دو (طرح کے) وضو (بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو) کے درمیان کا وضو کیا اور (پانی) زیادہ (استعمال) نہیں کیا اور (وضو) اچھی طرح کیا، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ (کے حالات جاننے) کی خاطر جاگ رہا تھا، پھر میں نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب (کھڑا) کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ نے نماز پڑھی (سنت فجر ادا کیں) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھر دے اور میری دائیں طرف نور کر دے اور میری بائیں طرف نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) کریب نے بتایا کہ (ان کے علاوہ مزید) سات (چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن) کا تعلق جسم کے صندوق (پسلیوں اور ارد گرد کے حصے) سے ہے، میری ملاقات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انہوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا، انہوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری کھال (کو نور کر دے)، دو اور بھی چیزیں بتائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1788]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی (بول و براز) حاجت پوری کی، پھر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے، پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کا بندھن کھولا، پھر درمیانہ وضو کیا پانی زیادہ استعمال نہیں کیا اور وضو اچھی طرح کیا، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی، اس ڈر سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات جاننے کی خاطر جاگ رہا تھا، پھر میں نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو کر خراٹے لینے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تھے تو خراٹے لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی (سنت فجر ادا کیں) اور وضو نہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں تھا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا» ”اےللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے اور میرے سننے میں نور پیدا فرما اورمیرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں طرف نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لئے نور کو بڑھادے۔“ اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے شاگرد کریب نے بتایا سات کا تعلق جسم سے ہے، اور سلمہ بن کہیل کہتے ہیں، میری ملاقات عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی بیٹے سے ہوئی تو اس نے مجھے وہ سات اعضاء بتائے، اس نے بتایا، میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں، میری کھال کو نور کر دے اور دو اور چیزیں بتائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1788]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1789
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ".
امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں، تو میں سرہانے (بستر) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس (بستر) کے طول (لمبائی) میں لیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے، (چہرے پر ہاتھ پھیرا) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر (آہستہ سے) مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر وتر پڑھا، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1789]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں، تو میں سرہانے یعنی بستر) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اس کے طول (لمبائی) میں لیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہو گئی۔ یا اس سے کچھ قبل یا کچھ بعد، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہو گئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کی تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہتے ہیں: ”میں اٹھا اور میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یہی عمل کیا پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے کان کو پکڑ کر مروڑنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت پڑھیں۔ پھر وتر پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1789]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1790
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا: پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہو گیا۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1790]
مصنف دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے ایک مشکیزے کا رخ کیا، مسواک کی اور وضو کیا، وضو مکمل کیا لیکن پانی بہت کم بہایا، پھر مجھے حرکت دی اور میں سیدھا ہو گیا، یعنی میری نیند دور ہو گئی۔ باقی حدیث مذکورہ بالا کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1790]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1791
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، " فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً "، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ (کے سانسوں) کی آواز آنے لگی، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آواز آتی تھی۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، آپ نے (از سر نو) وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انہوں نے کہا: کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1791]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں کر لیا۔ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات پڑھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےخراٹے لینے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تھے خراٹے لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہتےہیں میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انھوں نے کہا: کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1791]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1792
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ لَهَا: إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي، قَالَ: " فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی، میں نے ان سے عرض کی: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آپ مجھے بھی بیدار کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کخڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا (اور سو گئے) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آواز سن رہا تھا۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1792]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بسر کی، میں نے ان سے عرض کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آپ مجھے بھی بیدار کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں پہلو میں کر لیا، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کان کی لو پکڑ لیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعات پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوٹھ ماری حتی کہ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس کی آوازسن رہاتھا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے تھے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صبح واصخ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1792]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1793
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، قَالَ: وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ".
سفیان بن عمرو بن دینار سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اٹھے، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضو کیا (کریب نے) کہا: انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ پھر آ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا (اور گھما کر) اپنی دائیں جانب کر لیا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی۔ پھر لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ آواز سے سانس لینے لگے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور (نیا) وضو نہ کیا۔ سفیان نے کہا: یہ (نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1793]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ت کو اٹھے اور بوسیدہ مشک سے جو لٹکی ہوئی تھی وضو کیا، وضو خفیف کیا (کریب نے) کہا: انھوں (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی یہ کیفیت بیان کی پانی کم استعمال کیا اور مرات بھی کم تھے (یعنی اعضاء تین دفعہ نہ دھوئے)،ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں: میں نے اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عمل کیا پھر آ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیچھے سے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ خواٹے لینے لگے۔ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔ سفیان باین کرتے ہیں: (سو کر اٹہ کر وضو نہ کرنا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1793]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1794
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، أَوَ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا ".
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری، میں نے (وہاں رہ کر) مشاہدہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ کہا: آپ اٹھے، پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں۔ پھر سو گئے۔ آپ (کچھ دیر بعد) پھر اٹھے، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا، پھر دو وضوؤں کے درمیان کا خوبصورت وضو کیا (وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا)، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا۔ کہا: تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی، پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سو جاتے تو ہم آپ کے سونے کو آپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لیے نور بنا۔“ یا فرمایا: ”مجھے نور بنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1794]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری، میں نے (وہاں رہ کر) مشاہدہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں۔ پھر سو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ دیر بعد) پھر اٹھے، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا، پھر دو وضووں کے درمیان کا خوبصورت وضو کیا (وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا)، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوا۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کراپنی دائیں جانب کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس کی آواز سے پہچانتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے: ”اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نو ر کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لئے نور بنا۔۔۔یا فرمایا: ”مجھے نور بنا۔۔۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1794]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1795
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَقَالَ: وَاجْعَلْنِي نُورًا، وَلَمْ يَشُكَّ.
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، کہا: ہمیں سلمہ بن کہیل نے بکیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ سلمہ نے کہا: میں کریب کو ملا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ پھر انہوں نے غندر (محمد بن جعفر) کی حدیث (1794) کی طرح بیان کیا اور کہا: ”اور مجھے سراپا نور کر دے“ اور انہوں نے (کسی بات میں) شک کا اظہار نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1795]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، لیکن اس میں شک کے بغیر (وَاجْعَلْنِي نُورًا) ہے، یعنی ”مجھے سراپا نور بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1795]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1796
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، وَقَالَ: أَعْظِمْ لِي نُورًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: وَاجْعَلْنِي نُورًا.
سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے ابورشدین (کریب) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کا ذکر نہیں ہے، ہاں، یہ کہا: پھر آپ مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، اور دو وضوؤں کے درمیان کا وضو کیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اور مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، پھر دوبارہ وضو کیا جو (صحیح معنی میں) وضو تھا اور کہا: ”میرا نور عظیم کر دے“ اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1796]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کا ذکر نہیں ہے، ہاں، یہ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، اور دو وضووں کے درمیان کا وضوکیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اٹھے اورمشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، پھر دوبارہ وضو کیا جو (صحیح معنی میں) وضوتھا اور کہا: ”میرا نور عظیم کر دے“ اور یہ روایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1796]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1797
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ، فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا ".
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان (عقیل) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان (سلمہ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری، انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی۔ پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی۔ (تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں) سلمہ نے کہا: کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے اندر نور کر دے اور میرے نور کو عظیم کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1797]
سلمہ بن کہیل کو کریب نے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری، انھوں (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پانی زیادہ استعمال نہیں کیا لیکن وضو میں کوئی کمی کی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات انیس کلمات کہے۔ سلمہ نے کہتے ہیں: کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے دائیں اور میرے بائیں نور کر دے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے اندر نورپیدا فرما اور اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1797]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1798
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ.
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی، پھر آپ سو گئے۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو کیا اور مسواک کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1798]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سویا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے اور میں دیکھنا چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت کیسی ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت اپنی اہلیہ سے گفتگو فرمائی اورپھر سو گئے، اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ (پھر اٹھے) وضو کیا اور مسواک کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1798]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1799
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ، فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا، الْقِيَامَ، وَالرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ، يَسْتَاكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا ".
حبیب بن ابی ثابت نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تو (رات کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ (اس وقت) یہ آیات مبارکہ پڑھ رہے تھے: «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد و رفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ یہ آیات تلاوت فرمائیں حتیٰ کہ سورہ ختم کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں بہت طویل قیام، رکوع اور سجدے کیے، پھر واپس پلٹے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ کے سانس آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ نے اسی طرح تین دفعہ کیا، چھ رکعتیں پڑھیں، ہر دفعہ آپ مسواک کرتے، وضو فرماتے اور ان آیات کو تلاوت فرماتے، پھر آپ نے تین وتر پڑھے، پھر موذن نے اذان دی تو آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور کر دے اور میری زبان میں نور کر دے اور میری سماعت میں نور کر دے اور میری آنکھ میں نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے، اے اللہ! مجھے نور عنایت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1799]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے پس (تہجد کے وفت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت مبارکہ پڑھ رہے تھے: ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد ورفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لئے اسباق ہیں۔“ سورت ال عمران کے ختم تک یہ آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو ر کعتیں پڑھیں، ان قیام رکوع اور سجود بہت طویل کیا پھر بستر کی طرف واپس پلٹے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس کی آواز سنائی دینے لگی، یعنی خراٹے لینے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تین دفعہ کیا، چھ رکعتیں پڑھیں، ہر دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، وضو فرماتےاور ان آیات کو تلاوت فرماتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وتر پڑھے، پھر مؤذن نے اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کر رہے تھے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور فرما اور میری زبان میں نور فرما اور میری سمع و بصر میں نور پیدا فرما، اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نورکر دے، اے اللہ! مجھے نور عنائیت فرما دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1799]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1800
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ "، قُلْتُ: أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے کہا، مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز پڑھنے کے لیے جاگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی، جب میں نے آپ کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضو کیا، (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے رہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما جاگنے کے بعد غور سے انہیں دیکھتے رہے تاکہ آپ کی اتباع کر سکیں) پھر میں آپ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے اپنی پشت کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا، اسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب ٹھیک کر کے کھڑا کیا۔ (عطاء نے کہا:) میں نے پوچھا: کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1800]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفلی نماز پڑھنے کے لئے اٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا، پھر اٹھ کر نماز شروع کر دی، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضو کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا، اسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب پھیر لیا۔ عطا ء نے کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1801
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، " فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ ".
قیس بن سعد، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ کے ساتھ گزاری، آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر لیا (اس حدیث میں مزید یہ تفصیل سامنے آئی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے بھیجا تھا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1801]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ مجھے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگےاور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1801]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 763 ترقیم شاملہ: -- 1802
وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
عبدالملک نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ آگے ابن جریج اور قیس بن سعد کی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1802]
مصنف نے ایک دوسرے استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1802]
ترقیم فوادعبدالباقی: 763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة