🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب فضل استماع القرآن وطلب القراءة من حافظه للاستماع والبكاء عند القراءة والتدبر:
باب: قرآن سننے، حافظ سے اس کی فرمائش کرنے اور بوقت قرأت رونے اور غور کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 801 ترقیم شاملہ: -- 1870
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ: كُنْتُ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ " اقْرَأْ عَلَيْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ وَاللَّهِ، لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ، لَا تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ، قَالَ: فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا: ہمیں قرآن مجید سنائیں، تو میں نے انہیں سورہ یوسف سنائی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری تھی۔ میں نے کہا: تجھ پر افسوس، اللہ کی قسم! میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: "تو نے خوب قراءت کی۔" اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کر رہا تھا تو میں نے اس (کے منہ) سے شراب کی بو محسوس کی، میں نے کہا: تو شراب بھی پیتا ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب بھی کرتا ہے؟ تو یہاں سے نہیں جا سکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں، پھر میں نے اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1870]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا، ہمیں قرآن مجید سنائیں تو میں نے انھیں سورہ یوسف سنائی تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری، میں نے کہا، تم پر افسوس، اللہ کی قسم! میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو نے خوب قراءت کی۔ اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کررہا تھا کہ اچانک میں نے اس سے شراب کی بد بو محسوس کی تو میں نے کہا کیا تو شراب پی کر کتاب اللہ کی تکذیب کرتا ہے؟ تو یہاں سے جا نہیں سکتا، حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگواؤں، پھر میں نے اسے حد لگوائی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1870]
ترقیم فوادعبدالباقی: 801
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 801 ترقیم شاملہ: -- 1871
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ.
عیسیٰ بن یونس اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی لیکن ابومعاویہ کی روایت میں «فقال لی احسنت» (آپ نے مجھے فرمایا: "تو نے بہت اچھا پڑھا۔") کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1871]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے، لیکن ابو معاویہ کی روایت میں، (فَقَالَ لِيْ) (اَحْسَنْتَ) کے الفاظ نہیں ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تو نے بہت ا چھا پڑھا۔) [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 801
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں