صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
57. باب صلاة الخوف:
باب: نماز خوف کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 839 ترقیم شاملہ: -- 1942
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوا تھا، پھر یہ (آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے) پلٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رخ کر کے جا کھڑے ہوئے اور وہ لوگ آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا پھر (آپ کے بعد) انہوں نے بھی اپنی رکعت مکمل کر لی اور انہوں نے بھی دوسری رکعت مکمل کر لی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1942]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا تھا، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے پلٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کھڑے ہوئے دشمن کی طرف رخ کرکے اور وہ لوگ آئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور ان گروہوں نے اپنی اپنی رکعت پڑھ لی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 839
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 839 ترقیم شاملہ: -- 1943
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ، وَيَقُولُ: " صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى ".
فلیح نے زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ الخوف (کا طریقہ) بیان کرتے اور فرماتے: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی۔۔۔ (آگے) اسی کے ہم معنی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1943]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسری سند سے بیان کی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز خوف کو بیان کرتے تھے، اور فرماتے میں نے یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 839
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 839 ترقیم شاملہ: -- 1944
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَلِّ رَاكِبًا أَوْ قَائِمًا، تُومِئُ إِيمَاءً ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اور دوسرا دشمن کے بالمقابل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر یہ لوگ (دشمن کے مقابلے میں) چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر ان دونوں گروہوں نے (یکے بعد دیگرے) ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ (نافع) نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر خوف اس سے زیادہ ہو (اور صف بندی ممکن نہ ہو) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارہ کرو اور نماز پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1944]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ایام جنگ میں نماز خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے کھڑی ہو گئی۔ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر یہ لوگ دشمن کے مقابلہ میں چلے گئے اور دوسری جماعت کے لوگ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر ان جماعتوں نے اپنی اپنی رکعت ادا کر لی۔ نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا، اگر خوف اس سے بڑھ کر ہو (صف بندی ممکن نہ ہو) نماز سواری پر یا پیدل اشاری سے پڑھ لیجئے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 839
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة