Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الطيب والسواك يوم الجمعة:
باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1964
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
ابوصالح سمنان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعے کے دن غسل جنابت (جیسا غسل) کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک مرغ اللہ کے تقرب کے لیے پیش کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا تقرب کے لیے پیش کیا اس کے بعد جب امام آ جاتا ہے تو فرشتے ذکر (عبادت اور امور خیر کی یاد دہانی) سنتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1964]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گو یا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا ایک مرغ قربان کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا صدقہ کیا کیونکہ جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ (یادہانی)سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1984
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ، يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ".
ابوعبداللہ اغر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو (آنے والوں کی ترتیب کے مطابق) پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں، اور جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ (ناموں والے) صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور آ کر ذکر (خطبہ) سنتے ہیں۔ اور گرمی میں (پہلے) آنے والے کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہے پھر (جو آیا) گویا وہ گائے قربان کر دیتا ہے۔ پھر (جو آیا) گویا وہ مینڈھا قربان کر دیتا ہے، پھر (جو آیا) گویا وہ تقرب کے لیے مرغی پیش کرتا ہے پھر (جو آیا) گویا وہ تقرب کے لیے انڈا پیش کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1984]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے آنے والوں کی ترتیب سے پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں، اور جب خطیب منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اعمال نامے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور وعظ و نصیحت (تذکیر و یادہانی) سننے لگتے ہیں۔ اور جلد آنے والے کی مثال اس انسان کی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہے پھر اس طرح کی جو گائے قربان کرتا ہے۔ اور بعد والا اس کی طرح جو مینڈھا قربان کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس کی طرح جو مرغی قربان کرتا ہے پھر اس کی طرح جو انڈا صدقہ کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1985
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سعید (بن مسیب) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1985]
امام صاحب ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1986
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ، يَكْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ، ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَحَضَرُوا الذِّكْرَ ".
سہیل کے والد ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ (آخر میں) انڈے جیسے چھوٹے (صدقے) کی مثال دی۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو (اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں اور (فرشتے) ذکر و نصیحت (سننے) کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1986]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی، پھر ان کے درجات ومنازل کو بتدریج کم کر کے آخر میں انڈے کی مثال دی اور جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ رجسٹر (اعمال نامے) لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر یاد دہانی (سننے) کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں