صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
ترقیم عبدالباقی: 904 ترقیم شاملہ: -- 2100
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُولَجُونَهُ، فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ "، أَوَ قَالَ: " تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا، فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ".
اسماعیل بن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے (اتنا) لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے، پھر آپ نے رکوع کیا اور لمبا کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا اور لمبا (قیام) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رکوع کیا اور لمبا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکوع سے) سر اٹھایا اور (اس قیام کو لمبا) کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ (دوسری رکعت کے لیے) اٹھے اور اسی طرح کیا، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ مجھ پر ہر وہ چیز (حشر نشر، پل صراط، جنت اور دوزخ) جس میں سے تم گزرو گے، پیش کی گئی، میرے سامنے جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھے کو لینا چاہتا تو اسے پکڑ لیتا۔ یا آپ نے (یوں) فرمایا: میں نے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا، اور میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت دیکھی جسے اپنی بلی (کے معاملے) میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھلایا (پلایا) نہ اسے چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار پرندے وغیرہ کھا لیتی۔ اور میں نے ابوثمامہ عمرو (بن عامر) بن مالک (جس کا لقب لحی تھا اور خزاعہ اس کی اولاد میں سے تھا) کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جو وہ تمہیں دیکھاتا ہے، جب انہیں گرہن لگے تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ (گرہن) چھٹ جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2100]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، ایک انتہائی گرمی کے دن سورج کو گہن لگ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے اٹھے، اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے، اور تقریباً پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت پڑھی۔ اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر وہ تمام چیزیں (جنت، دوزخ، حشر، نشر) جن میں تم داخل ہو گے (گزرو گے) پیش کئی گئیں، مجھ پر جنت پیش کی گئی، حتی کہ اگر میں اس کے گچھے کو لینا چاہتا تو پکڑ لیتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک گچھا لینا چاہا، تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا، اور مجھ پر آگ پیش کی گئی، تو میں نے اس میں ایک اسرائیلی عورت دیکھی، جسے ایک بلی کی بنا پر عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اسے باندھ رکھا، اور اسے کچھ نہ کھلایا پلایا اور نہ اے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی اور میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا۔ اور لوگ کہا کرتے تھے، سورج اور چاند صرف کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کہ نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو وہ تمہیں دکھاتا ہے جب وہ (کبھی) بے نور ہوں تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ روشن ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 904 ترقیم شاملہ: -- 2101
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً "، وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: (آپ نے فرمایا:) ”میں نے آگ میں بلاد حمیر کی (رہنے والی) ایک سیاہ لمبی عورت دیکھی۔“ اور انہوں نے من بنی اسرائیل (بنی اسرائیل کی) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2101]
یہی روایت امام صاحب ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں، ہاں یہ فرق اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آگ میں ایک حمیری سیاہ لمبی عورت دیکھی۔“ یہ نہیں کہا کہ (وہ اسرائیلی تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 904 ترقیم شاملہ: -- 2102
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، بَدَأَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا، وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ، فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ، وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ، لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ، قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی۔ دونوں کے لفظ ملتے جلتے ہیں۔ کہا: ہمیں میرے والد (عبداللہ بن نمیر) نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبدالملک نے عطاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، سورج گرہن ہو گیا، (بعض) لوگوں نے کہا: سورج کو گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی بناء پر لگا ہے۔ (پھر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں، چار سجدوں کے ساتھ (دو رکعت) نماز پڑھائی۔ آغاز کیا تو اللہ اکبر کہا، پھر قراءت کی اور طویل قراءت کی، پھر جتنا قیام کیا تھا تقریباً رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور پہلی قراءت سے کچھ کم قراءت کی، پھر (اس) قیام جتنا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کچھ کم قراءت کی، پھر (اس) قیام جتنا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، پھر سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے فرمائے، پھر کھڑے ہوئے اور (اس دوسری رکعت میں بھی) تین رکوع کیے، ان میں سے ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے زیادہ لمبا تھا اور آپ کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا، پھر آپ پیچھے ہٹے تو آپ کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم لوگ آخر (آخری کنارے) تک پہنچ گئے۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے کہا: حتیٰ کہ آپ عورتوں کی صفوں کے قریب پہنچ گئے۔ پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی (صفوں میں) آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ (واپس) اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا، اس وقت سورج اپنی اصلی حالت پر آ چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگو! سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ان دونوں کو، لوگوں میں سے کسی کی موت پر گرہن نہیں لگتا۔“ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے ”کسی بشر کی موت پر“ کہا۔ ”پس جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اس وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ یہ زائل ہو جائے، کوئی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیا ہے۔ آگ (میرے سامنے) لائی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس ڈر سے پیچھے ہٹا ہوں کہ اس کی لپٹیں مجھ تک نہ پہنچیں۔ یہاں تک کہ میں نے اس آگ میں مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے مالک کو دیکھ لیا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے۔ وہ اپنی اس مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے ذریعے سے حاجیوں کی (چیزیں) چوری کرتا تھا۔ اگر اس (کی چوری) کا پتہ چل جاتا تو کہہ دیتا: یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گئی تھی، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اسے لے جاتا۔ یہاں تک کہ میں نے اس (آگ) میں بلی والی اس عورت کو بھی دیکھا جس نے اس (بلی) کو باندھ رکھا، نہ خود اسے کچھ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار اور پرندے کھا لیتی، حتیٰ کہ وہ (بلی) بھوک سے مر گئی، پھر جنت کو (میرے سامنے) لایا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ میں واپس اپنی جگہ پر آ کھڑا ہوا، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ لے لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو، پھر مجھ پر بات کھلی کہ میں ایسا نہ کروں، کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے وہ اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2102]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے، سورج گرہن ہو گیا، بعض لوگوں نے کہا: سورج کو گہن تو بس حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگ گیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں، چار سجدوں کے ساتھ (دو رکعت) نماز پڑھائی۔ تکبیر تحریمہ سے آغاز کیا پھر قراءت کی اور طویل قراءت کی، پھر قیام کے قریب رکوع کیا، پھر رکوع سے ا پنا سر اٹھایا اور قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر قیام کے بعد رکوع کیا پھر رکوع سے اپنا سراٹھایا اور قراءت کی جو دوسری قراءت سے کم تھی پھر رکوع کیا جو قیام کے قریب تھا پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا پھر سجدے کے لئے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور اس دوسری ر کعت میں بھی تین رکوع کیے،اس میں بھی ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے طویل تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں۔ ابو بکرکی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں تک پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ بھی آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ اپنی جگہ پر آ کرکھڑے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازسے اس وقت فارغ ہوئے کہ سورج پہلی حالت کی طرف لوٹ چکا تھا یعنی روشن ہو چکا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے لوگو! سورج اور چاند تو بس اللہ کی قدرت (کاریگری) کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہی ہیں اور یہ کسی انسان کی موت کی بنا پر بے نور نہیں ہوتے (ابو بکر نے موت بشر کہا) جب تم میں سے کسی کی یہ حالت دیکھو، تو اس کے روشن ہونے تک نماز پڑھو، اور تم سے جس کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، میں اسے اپنی اس نماز میں دیکھ چکا ہوں، آگ لائی گئی اور یہ اس وقت کی بات ہے جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس سے ڈر سے پیچھے ہٹ رہا ہوں کہ میں اس کی لپیٹ میں نہ آ جاؤں یا مجھے اس کی بو نہ لگ جائے، حتی کہ میں نے اس میں ایک طرف سے مڑی ہوئی لاٹھی والے کر دیکھا۔ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے وہ اپنی اس اسی ایکطرف مڑی ہوئی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چوری کرتا تھا۔ لگر پتا چل جاتا تو کہہ دیتا نہ کپڑا میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گیا تھا اور اگر پتا نہ چلتا، وہ چیزلے کر چلتا بنتا اور حتی کہ میں نے اس میں (دوزخ میں) بلی والی عورت کو دیکھا، جس نے اسے باندھ رکھا، نہ اسے خود کھلایا پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض سے کھا لیتی۔ حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی۔ پھر جنت کو لایا گیا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب تم نے مجھے آگے بڑھتے دیکھا حتی کہ میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ پکڑ لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو، پھر مجھے یہ حقیقت کھلی کہ مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہئیے، جس چیز کا بھی تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں اپنی اس نماز میں دیکھ چکا ہوں [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة