صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب القيام للجنازة:
باب: جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2222
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ".
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی عورت (کا جنازہ) ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت خوف اور گھبراہٹ (کا باعث) ہے، پس جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2222]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ایک یہودن ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت دہشت ناک ہے یا گھبراہٹ کا باعث ہے، اس لیے جب جنازہ کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2222]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2223
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ ".
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ (نگاہوں سے) اوجھل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2223]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2224
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ ".
ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے یہ خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ (نگاہوں سے) اوجھل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2224]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ایک یہودی کے جنازے کی خاطر کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة