صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب الصلاة على الجنازة في المسجد:
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا۔
ترقیم عبدالباقی: 973 ترقیم شاملہ: -- 2252
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِإسحاق، قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ، مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ".
عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے (تاکہ) وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدری صحابی) سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2252]
عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے (تاکہ) وہ بھی ان کا جنازہ ادا کر سکیں۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدری صحابی) سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 973 ترقیم شاملہ: -- 2253
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ، أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ، فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کر لے جائیں تاکہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں، تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے ایسا ہی کیا، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک (کر رکھ) دیا گیا (تاکہ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔ (پھر) اس (جنازے) کو باب الجنائز سے، جو مقاعد کی طرف (کھلتا) تھا، باہر نکالا گیا۔ اس کے بعد ان (ازواج) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے: جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”لوگوں نے اس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انہیں علم نہیں! انہوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایا جائے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2253]
عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ”ان کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں“، لوگوں نے ایسا ہی کیا، جنازہ ان کے حجروں کے سامنے رکھ دیا گیا تاکہ وہ نمازِ جنازہ پڑھ لیں۔ پھر اسے باب الجنائز سے (جو مقاعد یعنی بیٹھنے کی جگہیں کے قریب تھا) نکالا گیا۔ اور انہیں پتا چلا کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے: ”جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تک بھی اعتراض پہنچا تو انہوں نے فرمایا: ”کس قدر جلدی لوگ اس کام پر اعتراض کرنے لگے ہیں جس کا انہیں علم ہی نہیں ہے، ہم پر جنازہ مسجد میں لانے پر عیب (نکتہ چینی)، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 973 ترقیم شاملہ: -- 2254
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ: سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ "، قَالَ مُسْلِم: سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ.
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر سکوں۔“ ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی (سہل) رضوان اللہ علیہما اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: سہیل بن دعد، جو ابن بیضاء ہے، اس کی ماں بیضاء تھیں۔ (بیضاء کا اصل نام دعد تھا، سہیل کے والد کا نام وہب بن ربیعہ تھا، اسے شرف صحبت حاصل نہ ہوا۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2254]
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ پڑھوں۔“ ان پر اعتراض کیا گیا، اس پر انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی رضی اللہ عنہما کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا۔“ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سہیل بن دعد ہی بیضاء کے بیٹے ہیں۔ بیضاء ماں کا نام ہے، اصل نام دعد ہے، بیضاء کے نام سے معروف تھیں اور دوسرے بیٹے کا نام صفوان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة