🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب الصلاة على الجنازة في المسجد:
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 973 ترقیم شاملہ: -- 2253
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ، أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ، فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کر لے جائیں تاکہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں، تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے ایسا ہی کیا، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک (کر رکھ) دیا گیا (تاکہ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔ (پھر) اس (جنازے) کو باب الجنائز سے، جو مقاعد کی طرف (کھلتا) تھا، باہر نکالا گیا۔ اس کے بعد ان (ازواج) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے: جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: لوگوں نے اس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انہیں علم نہیں! انہوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایا جائے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2253]
عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ پڑھیں لوگوں نے ایسے یہ کیا ہی کیا، جنازہ ان کے حجروں کے سامنے رکھ دیا گیا تاکہ وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔ پھراسے باب الجنائز سے،جو مقاعد بیٹھنے کی جگہیں) کے قریب تھا سے نکالا گیا۔ اور انہیں پتہ چلاکہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک بھی اعتراض پہنچا تو انہوں نے فرمایا: کس قدر جلدی لوگ اس کام پر اعتراض کرنے لگٰے ہیں جس کا انہیں علم ہی نہیں ہے ہم پر جنازہ مسجد میں لانے پرعیب (نکتہ چینی) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عباد بن عبد الله القرشي
Newعباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن حمزة الأسدي، أبو حمزة
Newعبد الواحد بن حمزة الأسدي ← عباد بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← عبد الواحد بن حمزة الأسدي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود
Newبهز بن أسد العمي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← بهز بن أسد العمي
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1969
ما صلى رسول الله على سهيل ابن بيضاء إلا في المسجد
سنن النسائى الصغرى
1970
ما صلى رسول الله على سهيل ابن بيضاء إلا في جوف المسجد
صحيح مسلم
2253
ما صلى رسول الله على سهيل بن بيضاء إلا في جوف المسجد
صحيح مسلم
2252
ما صلى رسول الله على سهيل بن البيضاء إلا في المسجد
جامع الترمذي
1033
صلى رسول الله على سهيل ابن بيضاء في المسجد
سنن أبي داود
3189
ما صلى رسول الله على سهيل ابن البيضاء إلا في المسجد
سنن أبي داود
3190
صلى رسول الله على ابني بيضاء في المسجد سهيل وأخيه
سنن ابن ماجه
1518
ما صلى رسول الله على سهيل ابن بيضاء إلا في المسجد
بلوغ المرام
452
على ابني بيضاء في المسجد
صحيح مسلم
2254
سهيل بن دعد وهو ابن البيضاء امه بيضاء