صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة:
باب: تارک الصلاۃ پر کفر کے اطلاق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 82 ترقیم شاملہ: -- 246
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكَ الصَّلَاةِ ".
ابوسفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 246]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”انسان کو شرک و کفر سے جوڑنے والی چیز نماز چھوڑنا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 82
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذى في ((جامعه)) في الايمان، باب: ما جاء في ترك الصلاة وقال هذا حدیث حسن صحیح برقم (2618) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (2303)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 82 ترقیم شاملہ: -- 247
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَ الرَّجُلِ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكُ الصَّلَاةِ ".
ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز چھوڑنا ہے۔“ (اس روایت میں «إن» ”بے شک“ کا لفظ نہیں، باقی وہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 247]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی کو شرک و کفر سے جوڑنے والی چیز نماز چھوڑنا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 82
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبى)) 232/1 في الصلاة، باب: الحكم في تارك الصلاة انظر ((التحفة)) برقم (2817)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة