صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر وان له الاكل وغيره حتى يطلع الفجر وبيان صفة الفجر الذي تتعلق به الاحكام من الدخول في الصوم ودخول وقت صلاة الصبح وغير ذلك:
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2541
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، أَوَ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوَ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَقَالَ: لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ "،
اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لیے لوٹ جائے۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا: ”صبح اس طرح ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2541]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان یا ندا سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ اذان یا ندا رات کو دیتا ہے تاکہ قیام کرنے والے کو(سحری یا آرام کی طرف) لوٹا دے (یا اگر کوئی اور ضرورت ہو تو پوری کرے) اور سونے والے کو بیدار کر دے اور فرمایا: صبح اس، اس طرح نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے کیا اور اوپر اٹھایا حتی کہ اس طرح ہو اپنی دونوں انگلیوں کو کھول دیا کہ وہ دائیں بائیں پھیل جائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2542
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ "،
خالد احمر، سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2542]
مصنف اپنے مالک اور استاد سے سلیمان تیمی ہی کی سند سے اس فرق کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر وہ نہیں ہے جو ایسی ہو(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو مجتمع کر کے بعد میں زمین کی طرف جھکا دیا) لیکن فجر وہ ہے جو اس طرح ہو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت کو دوسری شہادت پر رکھا اور دونوں ہاتھ پھیلا دئیے دائیں بائیں کھول دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2543
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كلاهما، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ " يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ "، وقَالَ إسحاق: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ: " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا يَعْنِي: الْفَجْرَ، هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابراہیم، جریر، معتمر بن سلیمان، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہو وہ بیدار ہو جائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے۔ اسحاق نے کہا: جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2543]
مصنف یہی حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں معتمر کی حدیث یہاں ختم ہو جاتی ہے کہ ”وہ سونے والے کو بیدار کرے اور قیام کرنے والے کو سحری یا آرام یا اور کسی ضرورت کے لیے لوٹا دے۔“ اور اسحاق بیان کرتے ہیں جریر کی حدیث میں ہے ”فجر ایسے نہیں ہے بلکہ ایسے ہے“ یعنی فجر وہ ہے جو چوڑائی میں پھیلتی ہے۔ اور وہ اوپر لمبائی میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة