صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صوم يوم عاشوراء:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2637
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2637]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ (دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس روزہ کے رکھنے کا حکم دیا، جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2638
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2638]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اساتذہ سے ہشام ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس حدیث کے آغاز میں یہ نہیں ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ رکھتے تھے“ اور حدیث کے آخر میں ”عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے“، جریر کی طرح اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2639
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتا تھا تو جب اسلام آیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2639]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”عاشورہ کے دن کا روزہ زمانہ جاہلیت میں رکھا جاتا تھا، جب اسلام آ گیا (روزے فرض ہو گئے) تو جس نے چاہا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2640
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2640]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”فرضیتِ رمضان سے پہلے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، جب رمضان فرض کر دیا گیا تو جو چاہتا عاشورہ کے دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2641
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ ".
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعید، یزید بن ابی حبیب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) ”جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2641]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر (مدینہ آنے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کا حکم دیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا حتیٰ کہ رمضان کے روزے فرض قرار دیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة