🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب تحريم ضرب الخدود وشق الجيوب والدعاء بدعوى الجاهلية:
باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 287
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ، وَالْحَالِقَةِ، وَالشَّاقَّةِ ".
قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوموسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی، ان کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا، (اس موقع پر) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (شدید کمزوری کی وجہ سے) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے: میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا کر ماتم کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی (عورتوں) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 287]
ابو بردہ بن ابی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس قدر شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہوگئی، اور ان کا سر ان کے خاندان کی کسی عورت کی گود میں تھا، تو ان کے خاندان کی ایک عورت چیخنے لگی۔ حضرت ابو موسیٰ (بے ہوشی کی وجہ سے) اس کو کچھ کہہ نہ سکے (منع نہ کر سکے) جب ہوش میں آئے، تو کہنے لگے: میں اس سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلّانے والی، سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی سے براءت کا اظہار فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب ما ينهی عن الحلق عند المصيبة برقم (1234) انظر ((التحفة)) برقم (9125)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 288
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وأبى بردة بن أبي موسى ، قَالَا: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، قَالَا: ثُمَّ أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ، حَلَقَ، وَسَلَقَ وَخَرَقَ ".
ابوصخرہ نے عبدالرحمن بن یزید اور ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں) ذکر کیا، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی اور ان کی بیوی ام عبداللہ رضی اللہ عنہا چیختے ہوئے رونے کی آواز نکالتی آئیں، کہا: پھر انہیں افاقہ ہوا تو اسے حدیث سناتے ہوئے بولے: کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں اس سے بری ہوں جو (غم کے اظہار کے لیے) سر مونڈتے، چیخے چلائے اور کپڑے پھاڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 288]
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اور ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابی موسیٰ اشعری دونوں نے بتایا: کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی اور ان کی بیوی ام عبداللہ بلند آواز سے روتی ہوئی آئی۔ دونوں نے کہا: پھر انھیں ہوش آیا تو انھوں نے کیا کہا: تمھیں معلوم نہیں ہے وہ حدیث اسے بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سر منڈانے والے، چلانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے سے بیزار ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في الجنائز، باب: الحلق 18/4 - وابن ماجه في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما جاء في النهى عن ضرب الخدود وشق الجيوب برقم (1586) انظر ((التحفة)) برقم (9020 و 9081)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: لَيْسَ مِنَّا، وَلَمْ يَقُلْ: بَرِيءٌ.
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور باقی دو سندوں میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں: بری ہوں کے بجائے: ہم میں سے نہیں کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبي)) 21/4 في الجنائز، باب: شق الجيوب عن أبي موسی عن طريق امراته ام عبدالله - انظر ((التحفة)) برقم (9153)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں