🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب بيان غلظ تحريم إسبال الإزار والمن بالعطية وتنفيق السلعة بالحلف وبيان الثلاثة الذين لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم:
باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 108 ترقیم شاملہ: -- 297
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا کہ ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (اور یہ الفاظ ابوبکر کی حدیث کے ہیں) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، (دوسرا) وہ جس نے کسی آدمی کے ساتھ عصر کے بعد (عین انسانوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے وقت) سامان کا سودا کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ سامان اتنی رقم میں لیا ہے جبکہ اس نے اتنے کا نہیں لیا۔ اور خریدار اس کی بات مان لیتا ہے۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جس نے حکمران کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی (دین کی سربلندی مقصود نہ تھی۔) اگر اس نے اسے اس (دنیا) میں سے کچھ دے دیا تو (اس نے) وفا کی اور اگر نہیں دیا تو وفادار نہ رہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 297]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے آدمی ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا۔ نہ ان لوگوں کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک صاف کرے گا، ان کے لیے درد انگیز دکھ ہے۔ ایک آدمی جنگل میں اس کے پاس ضرورت سے زائد پانی ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، دوسرا وہ جو کسی آدمی کو عصر کے بعد سامان بیچتا ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے میں نے یہ سامان اتنی رقم میں خریدا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، خریدار نے اس کی بات مان لی۔ تیسرا وہ آدمی جو حکمران کی بیعت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اس سے مفاد (دنیا) حاصل کرے، اگر وہ اسے مفاد پہنچاتا ہے تو وہ وفادار رہتا ہے اگر دنیا کا مفاد نہیں دیتا تو وہ بھی بیعت کا حق ادا نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 108
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في التجارات باب: ما جاء في كراهية الايمان في الشراء والبيع برقم (2207) وفي الجهاد، باب: الوفاء بالبيعة برقم (2870) انظر ((التحفة)) برقم (12522)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 108 ترقیم شاملہ: -- 298
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ.
جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، البتہ جریر کی روایت میں (سودا کیا کے بجائے) یہ الفاظ ہیں: ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 298]
امام مسلم رحمہ اللہ جریر رحمہ اللہ سے اس حدیث میں یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: کہ ایک آدمی جو دوسرے آدمی سے سامان کا بھاؤ کرتا ہے۔ ساوم، سوم سے ہے: بھاؤ لگانا، قیمت طے کرنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 108
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12413)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 108 ترقیم شاملہ: -- 299
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُرَاهُ مَرْفُوعًا، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ، وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الأَعْمَشِ.
عمرو نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں (ابوصالح) نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی) آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک آدمی جس نے عصر کے بعد مسلمان کے مال کے لیے قسم اٹھائی اور اس کا حق مار لیا۔ حدیث کا باقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 299]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں، اللہ ان سے بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک آدمی جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے عصر کے بعد قسم اٹھائی (اور اس کا مال دبا لیا) حدیث کا باقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 108
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((المساقاة)) الشرب، باب: من رای ان صاحب الحوض والقرية أحق بمائه برقم (2240) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالي: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7008) انظر ((التحفة)) برقم (12855)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں