🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في اواخر الليالي قبل زحمة الناس واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3118
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ: الثَّقِيلَةُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ "، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
فلح بن حمید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کر سکنے والی خاتون تھیں۔ قاسم نے کہا: ثبطہ بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں۔ کہا، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے (وہیں) صبح کی، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی۔ اور یہ کہ (ہمیشہ) آپ کی اجازت سے (جلد) روانہ ہوتی تو یہ میرے لیے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3118]
حضرت عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور لوگوں کے دھکم پیل سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں، کیونکہ وہ بھاری بھر کم عورت تھیں، (قاسم نے ثَبِطَة [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3119
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ.
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بڑی (اور) بھاری جسم والی خاتون تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صبح کو باقی لوگوں کی طرح) امیر (حج) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3119]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھاری بھر کم جسم کی عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے رات کے وقت واپس جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، اے کاش! میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ لیتی، جیسا کہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت طلب کر لی تھی، حضرت عائشہ ایام حج کے ساتھ ہی واپس جایا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3120
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا "،
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیا کرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لیتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: (کیا) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بھاری کم حرکت کر سکنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3120]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں چاہتی ہوں، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لے لی تھی، تو میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں پڑھ کر لوگوں کی آمد سے پہلے جمرہ پر کنکریاں مار لیتی، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا گیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، وہ بھاری بھر کم عورت تھیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3121
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3121]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں