Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب استحباب النزول ببطحاء ذي الحليفة والصلاة بها إذا صدر من الحج والعمرة وغيرهما فمر بها
باب: حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے بطحائے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1346 ترقیم شاملہ: -- 3285
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حدثنا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر (ایک آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ (ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رات کے آخری حصہ میں، ذوالحلیفہ کے پڑاؤ (منزل) میں، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1346 ترقیم شاملہ: -- 3286
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَقِيلَ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ مُوسَى: وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ.
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی، (کسی آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا: آپ مبارک وادی میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا: سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی، جو وادی کے درمیان میں تھی، اس (مسجد) کے اور قبلے کے درمیان، اس کے وسط میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3286]
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ کی وادی عتیق کے اندر اپنے پڑاؤ میں تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں، راوی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سالم نے نماز کی جگہ میں جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے، اونٹ بٹھائے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، اور وہ بطن وادی کی مسجد سے نشیب میں ہے، اور وہ جگہ مسجد اور قبلہ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں