Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب استحباب النزول ببطحاء ذي الحليفة والصلاة بها إذا صدر من الحج والعمرة وغيرهما فمر بها
باب: حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے بطحائے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1346 ترقیم شاملہ: -- 3285
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حدثنا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر (ایک آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ (ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رات کے آخری حصہ میں، ذوالحلیفہ کے پڑاؤ (منزل) میں، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عباد المكي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عباد المكي ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2336
أري وهو في معرسه من ذي الحليفة في بطن الوادي فقيل له إنك ببطحاء مباركة
صحيح البخاري
484
ينزل بذي الحليفة حين يعتمر وفي حجته حين حج تحت سمرة في موضع المسجد الذي بذي الحليفة وكان إذا رجع من غزو كان في تلك الطريق أو حج أو عمرة هبط من بطن واد فإذا ظهر من بطن واد أناخ بالبطحاء التي على شفير الوادي الشرقية فعرس ثم حتى يصبح ليس عند المسجد الذي بحجا
صحيح البخاري
7345
أري وهو في معرسه بذي الحليفة فقيل له إنك ببطحاء مباركة
صحيح البخاري
1799
إذا خرج إلى مكة يصلي في مسجد الشجرة إذا رجع صلى بذي الحليفة ببطن الوادي وبات حتى يصبح
صحيح البخاري
1532
أناخ بالبطحاء بذي الحليفة فصلى بها
صحيح البخاري
1535
رئي وهو في معرس بذي الحليفة ببطن الوادي قيل له إنك ببطحاء مباركة
صحيح مسلم
3282
أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة فصلى بها
صحيح مسلم
3285
أتي في معرسه بذي الحليفة فقيل له إنك ببطحاء مباركة
صحيح مسلم
2823
بات رسول الله بذي الحليفة مبدأه وصلى في مسجدها
صحيح مسلم
3286
أتي وهو في معرسه من ذي الحليفة في بطن الوادي فقيل إنك ببطحاء مباركة
صحيح مسلم
3284
إذا صدر من الحج أو العمرة أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان ينيخ بها رسول الله
صحيح مسلم
3283
ينيخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان رسول الله ينيخ بها ويصلي بها
سنن أبي داود
2012
يهجع هجعة بالبطحاء ثم يدخل مكة
سنن أبي داود
2044
أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة فصلى بها
سنن النسائى الصغرى
2661
إنك ببطحاء مباركة
سنن النسائى الصغرى
2660
بات رسول الله بذي الحليفة ببيداء وصلى في مسجدها
سنن النسائى الصغرى
2662
أناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
129
اناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3285 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3285
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
بَطْحَاء:
کنکروں یا سنگریزوں والی زمین۔
(2)
مُعَرَّسْ:
پڑاؤ،
منزل۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3285]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 129
سواری کو سترہ بنانا جائز ہے
«. . . 228- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها. قال نافع: وكان عبد الله بن عمر يفعل ذلك. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ ذوالحلیفہ کے پاس بطحاء کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ نافع نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 129]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1532، ومسلم 430/1257 بعد ح1345، من حديث مالك به]
تفقہ
➊ سترے کا اہتمام کرنا چاہئے اور یہ کہ سواری کے جانور کو سترہ بنایا جا سکتا ہے۔
➋ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اتباع سنت میں ہر وقت مستعد رہتے تھے۔
➌ صحیح العقیدہ مسلمان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے امام اعظم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا رہے۔
➍ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازیں محصب (مکہ کے قریب ایک مقام) پر پڑھتے پھر رات کو مکہ میں داخل ہوتے اور طواف کرتے تھے۔ [الموطأ 1/405 ح934 وسنده صحيح]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 228]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2660
رات ذوالحلیفہ میں پڑاؤ ڈالنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے شروع ہونے کی جگہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2660]
اردو حاشہ:
(1) یہاں سے احرام کا طریقہ بیان کرنا مقصود ہے۔ مدینہ منورہ والوں کا میقات ذوالحلیفہ ہے، لہٰذا آپ نے وہاں رات گزاری۔ صبح احرام باندھا۔ وہاں رات گزارنا کوئی ضروری نہیں۔ اس زمانے میں سفر کئی دنوں پر محیط ہوتا تھا، اس لیے رات گزارنے کی گنجائش تھی، اب تیز رفتار سفر کا دور ہے۔
(2) ابتداء ً سے مراد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کو جاتے ہوئے ابتدائے سفر میں، نہ کہ واپسی کے وقت۔
(3) مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وہاں کوئی مسجد نہیں تھی، بعد میں بنائی گئی۔ عین اسی جگہ جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2660]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2661
رات ذوالحلیفہ میں پڑاؤ ڈالنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں آیا گیا اور آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2661]
اردو حاشہ:
بابرکت وادی میں ہیں۔ کیونکہ یہ وادی دوران سفر حج میں بہت سے انبیاء کی فرد گاہ رہی تھی۔ شام اور فلسطین انبیاء علیہم السلام کے علاقے ہیں۔ وہاں سے مکہ مکرمہ آتے ہوئے یہ وادی راستے میں پڑتی تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2661]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2823
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر حج کے آغاز میں رات ذوالحلیفہ میں گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2823]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے مدینہ منورہ سے پچیس (25)
ذوالقعدہ کو ہفتہ کے دن ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد نکلے اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں آ کر ادا کی،
رات ذوالحلیفہ میں بسر کی اوراتوار کے دن کی نماز ظہر پڑھنے کے بعد وہاں سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے مہینہ انتیس دن کا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو اتوار کے دن مکہ معظمہ پہنچ گئے اور نو (9)
ذوالحجہ عرفہ کا دن،
جمعۃ المبارک تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2823]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3286
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ کی وادی عتیق کے اندر اپنے پڑاؤ میں تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں، راوی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سالم نے نماز کی جگہ میں جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے، اونٹ بٹھائے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، اور وہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3286]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ پر جاتے وقت اور واپسی پر ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کرتے تھے،
اور وہاں نماز پڑھتے تھے،
اس لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہاں اترنا اور نماز پڑھنا بہتر ہے،
واپسی پر وہاں اترنا اور نماز پڑھنا حج کا حصہ نہیں ہے،
وادی عقیق متبرک وادی ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بعض اہل مدینہ وہاں آ کر نماز پڑھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3286]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1535
1535. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب دکھایا گیا جبکہ آپ ذوالحلیفہ کی ایک وادی (عقیق) کے درمیان رات کا پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ آپ سے کہا گیا: آپ اس وقت ایک بابرکت میدان میں ہیں۔ راوی حدیث کہتا ہے کہ حضرت سالم بن عبد اللہ نے ہمیں اسی مقام پر ٹھہرایا۔ وہ اسی جگہ کو تلاش کرتے جہاں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اونٹ بٹھایا کرتے تھے اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، بطن وادی میں وہ مقام مسجد کی نچلی جانب ہے، یعنی پڑاؤ کرنے والوں اور راستے کے درمیان میں واقع ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1535]
حدیث حاشیہ:
حدیث سے وادی کی فضیلت ظاہر ہے۔
اس میں قیام کرنااور یہاں نمازیں ادا کرنا باعث اجر و ثواب اور اتباع سنت ہے۔
تبع جب مدینہ سے واپس ہوا تو اس نے یہاں قیام کیا تھااور اس زمین کی خوبی دیکھ کر کہا تھاکہ یہ تو عقیق کی مانند ہے۔
اسی وقت سے اس کا نام عقیق ہوگیا۔
(فتح الباری)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1535]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1799
1799. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز ادا کرتے اور صبح تک وہاں رات بسر کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1799]
حدیث حاشیہ:
پھر مدینہ میں دن میں تشریف لاتے لہٰذا مناسب ہے کہ مسافر خاص طور پر سفر حج سے واپس ہونے والے دن میں اپنے گھروں میں تشریف لائے کہ اس میں بھی شارع ؑ نے بہت سے مصالح کو مد نظر رکھا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1799]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7345
7345. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپکو ایک خواب دکھایا گیا جبکہ آپ مقام ذوالحلیفہ میں محو استراحت تھے۔ آپ سے کہا گیا: بلاشبہ آپ بابرکت وادی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7345]
حدیث حاشیہ:
ذوالحلیفہ میں ایک مبارک وادی ہے جس کا ذکر کیا گیا۔
حافظ نے کہا امام بخاری نے اس باب میں جو احادیث بیان کیں اس سے مدینہ کی فضیلت ظاہر کی اور اس کی فضیلت میں شک کیا ہے؟ وہاں وحی اترتی رہی‘ وہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے اور منبر ہے جو بہشت کی ایک کیاری ہے کلام اس میں ہے کہ مدینہ کے عالم کیا دوسرے ملکوں کے عالموں پر مقدم ہیں تو اگر یہ مقصود ہو کہ آنحضرت کے زمانہ میں یا اس زمانہ میں جب تک صحابہ مدینہ میں جمع تھے تو یہ مسلم ہے۔
اگر یہ مراد ہو کہ ہر زمانہ میں تو اس میں نزاع ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مدینہ کے عالم ہر زمانہ میں دوسرے ملکوں کے عالموں پر مقدم ہوں۔
اس لیے کہ ائمہ مجتہدین کے زمانہ کے بعد پھر مدینہ میں ایک بھی عالم ایسا نہیں ہوا جو دوسرے ملکوں کے کسی عالم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہوں چہ جائیکہ دوسرے ملکوں کے سب عالموں سے بڑھ کر ہو بلکہ مدینہ میں ایسے ایسے بدعتی اور بد طینت لوگ جا کر رہے جن کی بد نیتی اور بد طینتی میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7345]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:484
484. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرے کے لیے جاتے، اسی طرح حجۃ الوداع میں جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ذوالحلیفہ میں اس کیکر کے نیچے پڑاؤ کرتے جہاں اب مسجد ذوالحلیفہ ہے۔ اور جب آپ جہاد، حج یا عمرے سے (مدینے) واپس آتے اور اس راستے سے گزرتے تو وادی عقیق کے نشیب میں اترتے۔ جب وہاں سے اوپر چڑھتے تو اپنی اونٹنی کو بطحاء میں بٹھاتے جو وادی کے مشرقی کنارے پر ہے اور آکر شب میں وہیں آرام فرماتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ یہ مقام اس مسجد کے پاس نہیں جو پتھروں سے بنی ہے اور نہ اس ٹیلے پر ہے جس پر مسجد ہے بلکہ اس جگہ ایک گہرا نالا تھا۔ عبداللہ بن عمر ؓ اس کے پاس نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کے اندر کچھ (ریت کے) ٹیلے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھتے تھے۔ (راوی کہتا ہے) لیکن اب نالے کی رو (پانی کے بہاؤ) نے وہاں کنکریاں بچھا دی ہیں اور اس مقام کو چھپا دیا ہے جہاں عبداللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:484]
حدیث حاشیہ:
اس باب کی احادیث میں جن مساجد کا ذکر ہے ان میں سے اکثر لاپتہ ہوچکی ہیں۔
وہ درخت اورنشانات بھی ختم ہوچکے ہیں جن کے ذریعے سے ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اب ان مساجد میں سے صرف ذوالحلیفہ اور روحاء کی مساجد رہ گئی ہیں جنھیں وہاں کے باشندے پہچانتے ہیں۔
(فتح الباري: 738/1)
پہلی منزل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے تو ذوالحلیفہ آپ کی پہلی منزل ہوتی۔
ذوالحلیفہ،مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔
اسے بئر علی کہاجاتا ہے۔
اہل مدینہ کے لیے احرام حج کی میقات ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں ایک کیکر کے درخت کے نیچے نزول فرماتے تھے۔
اب اس مقام پر مسج بن چکی ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کےبیان کے مطابق ٹھیک اسی جگہ مسجد بنی ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی، لیکن واپسی کے وقت نماز پڑھنے کی جگہ ایک دوسرا مقام تھا۔
حضرت ابن عمر ؓ کے بیان کے مطابق جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپسی کے وقت نماز پڑھتے تھے وہاں ایک گہری وادی تھی جس کے اندر ریت کے تودے تھے۔
وہاں جومسجدیں ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہوں کے علاوہ ہیں۔
ایک مسجد پتھروں سے بنی ہوئی ہے اور دوسری ٹیلے پر بنی ہوئی ہے۔
جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی وہ جگہ سنگریزوں سے چھپ گئی ہے ایک مقام مدینہ منورہ سے تقریباً چھ میل کے فاصلے پر ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر شب قیام فرمایا تھا۔
وہاں مسجد معرس تعمیر ہوچکی ہے۔
اب صرف دو مساجد ہیں:
مسجد ذوالحلیفہ اور مسجد معرس جو محفوظ ہیں۔
باقی رہے نام اللہ کا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 484]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1532
1532. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے میدان میں اپنے اونٹ کو بٹھایا، پھر وہاں نماز پڑھی اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1532]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ باب عنوان کے بغیر ہے۔
گویا سابق عنوان کا تکملہ ہے، یعنی میقات کے پاس احرام کی نیت کرنے سے پہلے دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
شارح ابن بطال کے ہاں اس مقام پر بایں الفاظ عنوان ہے:
(الصلاة بذي الحليفة)
ذوالحلیفہ میں نماز پڑھنا ممکن ہے کہ یہ دو رکعت احرام کی ہوں یا فریضے کے طور پر ادا کی ہوں کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز عصر کی دو رکعت پڑھی تھیں۔
(2)
احرام کی دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے۔
راجح بات یہ ہے کہ احرام کی خصوصی طور پر دو رکعتیں کسی حدیث سے صراحتا ثابت نہیں ہیں، البتہ جو شخص احرام سے پہلے وضو کرے تو وضو کی دو رکعت پڑھ کر احرام باندھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1532]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1535
1535. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب دکھایا گیا جبکہ آپ ذوالحلیفہ کی ایک وادی (عقیق) کے درمیان رات کا پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ آپ سے کہا گیا: آپ اس وقت ایک بابرکت میدان میں ہیں۔ راوی حدیث کہتا ہے کہ حضرت سالم بن عبد اللہ نے ہمیں اسی مقام پر ٹھہرایا۔ وہ اسی جگہ کو تلاش کرتے جہاں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اونٹ بٹھایا کرتے تھے اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، بطن وادی میں وہ مقام مسجد کی نچلی جانب ہے، یعنی پڑاؤ کرنے والوں اور راستے کے درمیان میں واقع ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1535]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں بھی وادی عقیق کے بابرکت ہونے کا ذکر ہے۔
اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ خواب اطلاع دی گئی اور انبیاء ؑ کے خواب وحی پر مبنی ہوتے ہیں۔
اس وادی میں قیام کرنا اور نمازیں ادا کرنا باعث اجروثواب ہے۔
اتباع سنت کا الگ ثواب ہو گا۔
(2)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اس جگہ کو تلاش کر کے وہاں قیام کرتے تھے۔
سنن بیہقی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں درخت کے نیچے پڑاؤ کیا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اس درخت کو پانی دیتے تھے تاکہ وہ خشک نہ ہونے پائے۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 245/5)
حضرت سالم بھی اپنے باپ حضرت عبداللہ ؓ کی اتباع میں اس جگہ کو تلاش کر کے وہاں قیام کرتے تھے۔
(فتح الباري: 495/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1535]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1799
1799. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز ادا کرتے اور صبح تک وہاں رات بسر کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1799]
حدیث حاشیہ:
مسافر کے لیے ممانعت ہے کہ وہ اچانک رات کے وقت اپنے گھر آئے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا، اس کے علاوہ صبح و شام جب چاہے اپنے گھر آ سکتا ہے، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی میں رات بسر کرتے، صبح کے وقت اپنے گھر تشریف لاتے۔
اس میں شارع ؑنے بہت سی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1799]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7345
7345. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپکو ایک خواب دکھایا گیا جبکہ آپ مقام ذوالحلیفہ میں محو استراحت تھے۔ آپ سے کہا گیا: بلاشبہ آپ بابرکت وادی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7345]
حدیث حاشیہ:
ذوالحلیفہ میں ایک مبارک وادی ہے جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کے تحت جو احادیث بیان کی ہیں ان سے مدینہ طیبہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
اس کی فضیلت میں کوئی شک نہیں وہاں وحی اترتی رہی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7345]