صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
85. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1363 ترقیم شاملہ: -- 3318
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔“ اور آپ نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حرم قرار دیتا ہوں، مدینہ کی دونوں حدوں کے درمیانی علاقہ کو، اس کے خار دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو قتل نہ کیا جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے، اگر وہ (اس کی خیر و برکت کو) جانتے ہوں، کوئی انسان اس کو بے نیازی اختیار کرتے ہوئے نہیں چھوڑے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ، اس سے بہتر بندے کو بھیج دے گا، (جانے والا ہی خیر و برکت سے محروم ہو گا، اس کے جانے سے مدینہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی) اور جو کوئی بندہ اس کی تنگیوں ترشیوں اور مشقتوں پر صبر کر کے وہاں پڑا رہے گا، تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، اور اس کے حق میں شہادت دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1363 ترقیم شاملہ: -- 3319
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا:) ”اور کوئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یا پانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3319]
ایک اور استاد سے امام صاحب مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اہل مدینہ کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں اس طرح پگھلائے گا، جس طرح سیسہ پگھلتا ہے، یا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة