صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب حكم العزل:
باب: عزل کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3556
حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فقَالَ: " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا "، فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ، فقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ، فقَالَ: " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3556]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت گار بھی ہے اور ہمارے لیے پانی بھی فراہم کرتی ہے اور میں اس سے مباشرت کرتا ہوں، اور یہ نہیں چاہتا کہ اسے حمل قرار پائے، (کیونکہ حمل اور وضع حمل کے نتیجہ میں وہ سب کام کاج نہیں کر سکے گی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہتا ہے تو عزل کر کے دیکھ لے، کیونکہ اس کے لیے جو مقدر ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا۔“ کچھ دن ٹھہرنے کے بعد وہ آدمی آیا اور کہنے لگا، باندی تو حاملہ ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بتا چکا ہوں، اس کو پیدا ہو کر رہے گا، جو اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3557
حدثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنَّ عَنْدِي جَارِيَةً لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ "، قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3557]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کہ میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام اللہ کے ارادہ و مشیت میں حائل نہیں ہو سکتا۔“ (کچھ عرصہ کے بعد) وہ آدمی آ کر کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جس لونڈی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تھا اسے حمل ٹھہر گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ یعنی میں جو کچھ کہتا ہوں وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے یقینی اور اٹل ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3558
وحدثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.
ابواحمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (آگے) سفیان کی حدیث کے ہم معنی (ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3558]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3558]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة