صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب حُكْمِ الْعَزْلِ:
باب: عزل کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3544
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ، فقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَذْكُرُ الْعَزْلَ، فقَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ، فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا: نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ "،
ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی، انہوں نے ابن محریز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا: ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں، ہمیں (اپنی عورتوں سے) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی، اور ہم (ان عورتوں کے) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ (ان عورتوں سے) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں، ہم نے کہا: ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (عزل) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک (پیدا) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے، وہ ضرور پیدا ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3544]
ابن محریز سے روایت ہے کہ میں اور ابو صرمہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ابو صرمہ نے ان سے دریافت کیا۔ اے ابو سعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سنا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق (غزوہ مریسیع) میں شریک ہوئے تو ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قیدی بنا لیا، ہمیں عورتوں سے علیحدہ ہوئے کافی عرصہ ہو گیا تھا یا عورتوں سے علیحدگی ہمارے لیے شاق گزر رہی تھی اور ہم ان کے فدیہ کے بھی خواہاں تھے، (جو حاملہ ہونے کی صورت میں انہیں فروخت کرنا ممکن نہ تھا) اس لیے ہم نے چاہا ان سے لطف اندوز ہوں اور عزل کریں، پھر ہم نے سوچا کہ ہم یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان سے پوچھے بغیر ہی کر لیں! تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عزل نہ کرو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس جان کے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گا“ (عزل اس میں حائل نہیں ہو سکے گا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3545
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حدثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”اللہ نے (پہلے ہی) لکھ دیا ہے کہ وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3545]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جن کو پیدا کرنا ہے ان کو لکھا جا چکا ہے“ (ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3546
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا، فَكُنَّا نَعْزِلُ، ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فقَالَ لَنَا: " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ ".
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے ان (ابن محریز) کو خبر دی، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو (ان کے ساتھ) ہم عزل کرتے تھے، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا: ”(کیا) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ (واقعی) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3546]
حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، ہم نے جنگ میں عورتیں قید کر لیں، ہم ان سے عزل کرنا چاہتے تھے۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے ہمیں فرمایا: "تم یہ کرنا چاہتے ہو؟ کیا واقعی تم یہ کرتے ہو؟ اور تم یہ کرنا چاہتے ہو؟ اور تم یہ کر کے رہو گے؟ جس روح نے قیامت تک پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3547
وحدثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "،
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (انس بن سیرین نے) کہا: میں نے ان (معبد) سے پوچھا: آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم (ایسا) نہ کرو، یہ تو صرف تقدیر ہے (جو تم عزل کرو یا نہ کرو، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3547]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم عزل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3547]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3548
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فِي الْعَزْلِ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ، وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
محمد بن جعفر، خالد بن حارث، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز، سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر ان کی حدیث میں (اس طرح) ہے: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا: ”(اس میں) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔“ بہز کی روایت میں ہے، شعبہ نے کہا: میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3548]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے، شعبہ کی انس بن سیرین کے واسطہ سے سند سے مذکورہ حدیث بیان کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم یہ کام نہ کرو کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔“ حمل کا ٹھہرنا، نہ ٹھہرنا انسان کے بس میں نہیں ہے۔ بہز کی روایت میں ہے شعبہ نے کہا، معبدنے انس سے پوچھا، کیا تو نے یہ روایت ابو سعید سے سنی ہے؟ اس نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3549
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَوْلُهُ: لَا عَلَيْكُمْ أَقْرَبُ إِلَى النَّهْيِ.
ایوب نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے (ان سے روایت کی)، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔“ محمد (بن سیرین) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: «لا علیکم» ”اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں“ ممانعت کے زیادہ قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3549]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم یہ کام نہ کرو، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔“ امام محمد بن سیرین کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: ”لاَ عَلَيكُم“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3550
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عَنْدَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَمَا ذَاكُمْ؟ "، قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ: ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے) تمہارا مقصود کیا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: کسی آدمی کی بیوی ہے (بچے کو) دودھ پلا رہی ہوتی ہے، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو، یہ (بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا) تو تقدیر کا معاملہ ہے۔“ ابن عون نے کہا: میں نے یہ حدیث حسن (بصری) کو سنائی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3550]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر چھڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیوں کرتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا۔ انسان کی بیوی دودھ پلا رہی ہوتی ہے اور وہ اس سے مباشرت کرتا ہے، لیکن وہ اس کے حاملہ ہونے کو پسند نہیں کرتا (اس لیے عزل کرتا ہے) اور ایک انسان کی لونڈی ہوتی ہے، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور اس کا حاملہ ہونا ناپسند کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ (حمل) تو تقدیر کی بات ہے۔“ ابن عون کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث حسن بصری کو سنائی، تو اس نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو گویا کہ سرزنش و توبیخ ہے یعنی عزل پر ناراضگی کا اظہار ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3551
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ، فقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ،
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حماد (بن سیرین) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3551]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3552
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، إِلَى قَوْلِهِ: الْقَدَرُ.
ہشام نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے روایت کی، کہا: ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آگے انہوں نے القدر (یہ تو تقدیر ہے) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3552]
معبدبن سیرین بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابو سعید سے دریافت کیا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، آ گے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3553
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: أَخْبَرَنا، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ، عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ "، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا.
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟۔۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے۔ (وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3553]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم یہ کام کیوں کرتے ہو؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی یہ حرکت نہ کرے۔ کیونکہ جو جان بھی پیدا ہونی ہے، اللہ اس کو پیدا کر کے رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة