🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب الدليل على ان من قصد اخذ مال غيره بغير حق كان القاصد مهدر الدم في حقه وإن قتل كان في النار وان من قتل دون ماله فهو شهيد:
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 141 ترقیم شاملہ: -- 361
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ".
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سلیمان احول نے خبر دی کہ عمر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت نے انہیں بتایا کہ عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ (جھگڑا) ہوا جو ہوا، تو وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، اس وقت (ان کے چچا) خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں نصیحت کی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا، وہ شہید ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 361]
عمرو بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، تو خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اسے نصیحت کی تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (8611)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 141 ترقیم شاملہ: -- 362
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(ابن جریج کے دوسرے شاگردوں) محمد بن بکر اور ابوعاصم نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 362]
امام مسلم رحمہ اللہ یہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الاحكام، باب: من استرعى رعية فلم ينصح مختصرا برقم (6731 و 6732) والمؤلف [مسلم] في المغازی، باب: فضيلة الامام العادل، وعقوبة الجائر، والحث على الرفق بالرعية والنهي عن ادخال المشقة عليهم برقم (4706 و 4707) انظر ((التحفة)) برقم (11466)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں