صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
62. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ:
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 140 ترقیم شاملہ: -- 360
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: قَاتِلْهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: فَأَنْتَ شَهِيدٌ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: هُوَ فِي النَّارِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ”اسے اپنا مال نہ دو۔“ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ فرمایا: ”تم اس سے لڑائی کرو۔“ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم شہید ہو گے۔“ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: ”وہ دوزخی ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 360]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتائیے! اگر کوئی آدمی آکر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنا مال نہ دے۔“ اس نے پوچھا: بتائیے! اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے؟ فرمایا: ”تو اس سے لڑائی کر!“ اس نے پوچھا: فرمائیے! اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو شہید ہے۔“ اس نے پوچھا: اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: ”وہ دوزخی ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 140
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14088)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 141 ترقیم شاملہ: -- 361
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ".
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سلیمان احول نے خبر دی کہ عمر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت نے انہیں بتایا کہ عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ (جھگڑا) ہوا جو ہوا، تو وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، اس وقت (ان کے چچا) خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں نصیحت کی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا، وہ شہید ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 361]
عمرو بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، تو خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اسے نصیحت کی تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (8611)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 141 ترقیم شاملہ: -- 362
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(ابن جریج کے دوسرے شاگردوں) محمد بن بکر اور ابوعاصم نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 362]
امام مسلم رحمہ اللہ یہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الاحكام، باب: من استرعى رعية فلم ينصح مختصرا برقم (6731 و 6732) والمؤلف [مسلم] في المغازی، باب: فضيلة الامام العادل، وعقوبة الجائر، والحث على الرفق بالرعية والنهي عن ادخال المشقة عليهم برقم (4706 و 4707) انظر ((التحفة)) برقم (11466)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة