صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
64. باب رفع الامانة والإيمان من بعض القلوب وعرض الفتن على القلوب:
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 143 ترقیم شاملہ: -- 367
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الأَمَانَةِ، قَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا، يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ، مَا أَظْرَفَهُ، مَا أَعْقَلَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا ".
ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائیں، ایک تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے ہمیں بتایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کے نہاں خانے میں اتری، پھر قرآن اترا، انہوں نے قرآن سے سیکھا اور سنت سے جانا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امانت اٹھا لیے جانے کے بارے میں بتایا، آپ نے فرمایا: ”آدمی ایک بار سوئے گا تو اس کے دل میں امانت سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند لے گا تو (بقیہ) امانت اس کے دل سے سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان ایک آبلے کی طرح رہ جائے گا جیسے تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو (وہ حصہ) پھول جاتا ہے اور تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔“ پھر آپ نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکایا۔ ”پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی بھی پوری طرح امانت کی ادائیگی نہ کرے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں خاندان میں ایک آدمی امانت دار ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ کسی آدمی کے بارے میں کہا جائے گا، وہ کس قدر مضبوط ہے، کتنا لائق ہے، کیسا عقل مند ہے! جبکہ اس کے دل میں رائے کے دانے کے برابر (بھی) ایمان نہ ہو گا۔“ (پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:) مجھ پر ایک دور گزرا، مجھے پروا نہیں تھی کہ میں تم سے کس کے ساتھ لین دین کروں، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین اس کو میرے پاس واپس لے آئے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس لے آئے گا لیکن آج میں فلاں اور فلاں کے سوا تم میں سے کسی کے ساتھ لین دین نہیں کر سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 367]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں، ایک تو میں دیکھ چکا ہوں (پوری ہو چکی ہے) اور دوسری کا میں منتظر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر قرآن اترا تو انہوں نے قرآن سے جانا اور سنت سے جانا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری حدیث) امانت کے اٹھنے کے بارے میں بیان فرمائی، فرمایا: ”ایک آدمی تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان ایک پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر وہ کچھ وقت کے لیے سوئے گا تو امانت اس کے دل سے قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان آبلے کی طرح رہ جائے گا، جیسا کہ تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکا دو تو اس پر آبلہ بن جائے، تو تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو اور اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا دیا۔ (پھر فرمایا:) ”تو پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے، تو ان میں سے کوئی ایسا نہیں ملے گا جو امانت ادا کرے یہاں تک کہ لوگ کہیں گے: فلاں خاندان میں ایک امانت دار آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا وہ کس قدر بیدار مغز، خوش مزاج اور عقل مند ہے، اور اس کی تعریف و توصیف کریں گے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے بقدر ایمان نہیں ہو گا۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک دور گزر چکا ہے، کہ مجھے کسی کے ساتھ لین دین کرنے میں کوئی پروا نہیں ہوتی تھی؛ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میرے ساتھ خیانت کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا حاکم اس کو مجھے نقصان پہنچانے سے روکتا، لیکن آج میں تمہارے ساتھ فلاں فلاں کے سوا کسی سے معاملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الرقاق، باب: رفع الامانة برقم (6132) وفي ((الفتن)) باب: اذا بقى فى حثالة من الناس برقم (6675) وفى الاعتصام بالكتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (6848) مختصراً- والترمذی فی ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى رفع الامانة برقم (2179) وقال: حديث حسن صحيح۔ وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: ذهاب الامانة برقم (4053) انظر ((التحفة)) برقم (3328)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 143 ترقیم شاملہ: -- 368
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(اعمش کے دوسرے شاگردوں) عبداللہ بن نمیر، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے بھی اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 368]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں (نمیر رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ اور عیسیٰ رحمہ اللہ سے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 143
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (365)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة