صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة وتحريمه في غير ذلك إلا ثلاثة ايام:
باب: سوگ واجب ہے اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1487 ترقیم شاملہ: -- 3726
(حديث موقوف) قَالَت قَالَت زَيْنَبُ : ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَت: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
زینب (بنت ابی سلمہ) نے کہا: پھر میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی (عبیداللہ بن جحش) فوت ہوئے، تو انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر پر، چار مہینے دس دن (سوگ کرے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3726]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، پھر جب حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی فوت ہوئے، تو میں ان کے پاس گئی، تو انہوں نے خوشبو منگوا کر، ملی، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے، کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ جائز نہیں ہے، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3726]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1487 ترقیم شاملہ: -- 3730
وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ ، عَنْ أُمِّهَا ، وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زینب نے انہیں (حمید کو) اپنی والدہ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3730]
حمید بن نافع کو حضرت زینب بنت ام سلمہ نے اپنی والدہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے یا ازواج مطہرات میں سے کسی بیوی سے روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3730]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة